The news is by your side.

Advertisement

’کشمیر، خواتین اور لڑکیاں گھروں میں محفوظ نہیں، خواتین برتن بجا کر مدد مانگتی ہیں‘

برلن: جرمن میڈیا نے بھارت کے جھوٹ سے پردہ اٹھادیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیر میں خواتین اور لڑکیاں گھروں میں محفوظ نہیں ہیں، خواتین برتن بجا کر مدد مانگتی ہیں۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی بربریت کا سلسلہ جاری ہے، کشمیر میں خواتین اور لڑکیاں گھروں میں بھی محفوظ نہیں ہیں، بھارتی فوج گھر میں گھس کر خواتین اور بچیوں کو نشانہ بنارہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے دیہی علاقوں میں زیادتی کے واقعات بڑھ گئے ہیں اور خواتین برتن بجا کر مدد کو پکارتی ہیں۔

واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں آج مسلسل 30ویں روز بھی کرفیو برقرار ہے اور مواصلات کا نظام مکمل پر معطل ہے، قابض انتظامیہ نے ٹیلی فون سروس بند کررکھی ہے جبکہ ذرائع ابلاغ پرسخت پابندیاں عائد ہیں۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیرمیں 30ویں روز بھی کرفیو

کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق مواصلاتی نظام کی معطلی، مسلسل کرفیو اور سخت پابندیوں کے باعث لوگوں کو بچوں کے لیے دودھ، زندگی بچانے والی ادویات اور دیگر اشیائے ضروریہ کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

عیدالاضحیٰ کے موقع پر بھی مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ رہا جس کے باعث مسلمان عید کی نماز اور سنت ابراہیمی علیہ اسلام ادا کرنے سے محروم رہے۔

یاد رہے کہ پانچ اگست کو مودی سرکار نے کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اے کو ختم کردیا تھا۔

راجیہ سبھا میں بل کے حق میں 125 جبکہ مخالفت میں 61 ووٹ آئے تھے، بھارت نے 6 اگست کو لوک سبھا سے بھی دونوں بل بھاری اکثریت کے ساتھ منظور کرالیے تھے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں