The news is by your side.

Advertisement

اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے

بہزاد لکھنوی کی مشہور غزل جسے نیرہ نُور کی آواز میں آج بھی سنا اور پسند کیا جاتا ہے

بہزاد لکھنوی کا شمار برصغیر کے نام ور شعرا میں‌ کیا جاتا ہے۔ ان کا سنِ پیدائش 1900ء ہے۔ بہزاد لکھنوی کی زندگی کا سفر 1974ء تک جاری رہا۔ ان کا کلام نہایت خوب صورت، مرصّع اور لطیف جذبات کی ترجمانی کرتا ہے۔ وہ نعت گوئی میں‌ بھی نمایاں مقام رکھتے ہیں۔

بہزاد لکھنوی کی یہ غزل بہت مشہور ہے جسے پاکستانی گلوکارہ نیرہ نُور نے گایا تھا۔ یہ غزل آپ کے ذوقِ مطالعہ کی نذر ہے۔

غزل
اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے
منزل کے لیے دو گام چلوں اور سامنے منزل آ جائے

اے دل کی لگی چل یوں ہی سہی چلتا تو ہوں ان کی محفل میں
اس وقت مجھے چونکا دینا جب رنگ پہ محفل آ جائے

اے رہبرِ کامل چلنے کو تیار تو ہوں پر یاد رہے
اس وقت مجھے بھٹکا دینا جب سامنے منزل آ جائے

ہاں یاد مجھے تم کر لینا، آواز مجھے تم دے لینا
اس راہ محبت میں کوئی درپیش جو مشکل آ جائے

اب کیوں ڈھونڈوں وہ چشم کرم، ہونے دے ستم بالائے ستم
میں چاہتا ہوں اے جذبۂ غم مشکل پسِ مشکل آ جائے

کشتی کو خدا پر چھوڑ بھی دے کشتی کا خدا خود حافظ ہے
مشکل تو نہیں ان موجوں میں بہتا ہوا ساحل آ جائے

Comments

یہ بھی پڑھیں