The news is by your side.

Advertisement

افغانستان : لڑکیوں کی تعلیم سے متعلق طالبان حکومت کا اہم فیصلہ

کابل : افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے بعد سے بند ہونے والے لڑکیوں کے تعلیمی ادارے طالبان نے جلد دوبارہ کھولنے کا عندیہ دے دیا۔

افغانستان کے زیادہ تر علاقوں میں جہاں لڑکیاں گھروں میں رہتی ہیں اور لڑکے اسکول جاتے ہیں، وہیں ملک کے شمالی علاقوں میں اسکول بچیوں کے لیے کھلے ہوئے ہیں۔

افغان طالبان کی جانب سے لڑکوں کے تمام تعلیمی ادارے کھول دیے گئے تھے اور پرائمری تک چھوٹی بچیوں کو بھی اسکول جانے کی اجازت دے دی گئی تھی لیکن سیکنڈری اسکول، کالجز اور جامعات کی لڑکیوں کو پالیسی بننے تک گھر پر رہنے کا کہا گیا تھا۔

اس حوالے سے طالبان کا مؤقف تھا کہ لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے باقاعدہ پالیسی مرتب کر کے طالبات کے لیے سیکنڈری اسکول اور جامعات کھول دیے جائیں گے۔

بہت جلد لڑکیوں کے سیکنڈری اسکول اور جامعات دوبارہ کھل جائیں گے: ترجمان افغان وزارت داخلہ۔ فوٹو: فائل

اب افغانستان کی وزارت داخلہ کے حکام کا کہنا ہے کہ بہت جلد لڑکیوں کے تعلیمی ادارے دوبارہ کھل جائیں گے۔ ترجمان افغان وزارت داخلہ قاری سعید خوستی کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کے اسکول کھولنے کی حتمی تاریخ کا اعلان وزارت تعلیم کرے گی۔

واضح رہے کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے بچیوں کی تعلیم ایک بہت حساس موضوع بن گیا ہے، اطلاعات کے مطابق طالبان کی حکومت نے مبینہ طور پر اعلان کیا تھا کہ چھٹی جماعت کے بعد لڑکیاں گھروں سے باہر نکل کر اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے نہیں جا سکتیں۔

دوسری جانب طالبان حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے براہ راست ایسا کوئی حکم جاری نہیں کیا تھا لیکن ان کی حکومت کے قیام کے کئی ہفتے بعد بھی ملک کے زیادہ تر علاقوں میں لڑکیوں کے سیکنڈری اسکول بند تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں