site
stats
سائنس اور ٹیکنالوجی

کیا دنیا میں کہیں سونے کے پہاڑواقعی پائے جاتے ہیں؟

جب کبھی بھی بلوچستان کے معدنی وسائل کے متعلق بات آئے تو یہ بات سننے میں آتی ہے کی بلوچستان میں سونے کے پہاڑ پائے جاتے ہیں جو کہ درحقیقت ایک مضحکہ خیز بات ہے- آئیے میں آپ کو بتاتا ہوں کہ سونا قدرتی ماحول میں دراصل کس شکل میں پاپا جاتا ہے۔

دراصل سونا ایک نایاب عنصر ہے جو کہ مختلف آتشی اور متغیر چٹانوں کے علاوہ ان علاقوں کے آس پاس پائے جانے والے دریاؤں اور نالوں کی ریت میں بھی پاپا جاتا ہے- سونا زیادہ تر دوسری منرلز کے ساتھ انتہائی چھوٹے زرات کی شکل میں ملتا ہے- قدرتی ماحول میں سونا چھوٹے چھوٹے خالص Gold Nuggets کی شکل میں بھی ملتا ہے جن کا وزن چند سو گرام تک ہو سکتا ہے لیکن یہ عموماً چند گرام تک ہی محدود ہوتا ہے- یہ Gold Nuggets زیادہ تر دریائی ریتوں میں ملتے ہیں اور ان کو ڈھونڈنا اتنا آسان کام نہیں کیونکہ یہ اتنے عام نہیں ہیں۔

قدرتی ماحول میں ملنے والا زیادہ تر سونا دوسری منرلز کے ساتھ ملتا ہے لیکن یہ سونا بہت ہی کم مقدار میں موجود ہوتا ہے۔ یہ کتنی کم مقدار میں پایا جاتا ہے اس کو سمجھنے کے لئے تصور کریں کہ اگر ہم اس منرل (جس کے اندر سونا پایا جاتا ہے) کے دس لاکھ زرات لیں تو اس میں سےصرف دس یا بیس زرات سونے کے ہوں گے- دنیا میں اس طرح کے سب سے بڑے High grade ذخائر ریڈ لیک مائن اونٹاریو کینیڈا میں پائے جاتے ہیں جہاں 1000 کلو گرام منرل کے ساتھ 57گرام سونا ملتا ہے- اس طرح کے سونے کو پراسس کر ے نکالا جاتا ہے لیکن یہ کام بہت مشکل اور مہنگا ہے۔

پتھروں میں سونا بہت ہی خاص کیسرز میں نظر آتا ہےعموماُ اس کو ننگی آنکھ سے نہیں دیکھا جا سکتا اور اس کی موجودگی کوصرف اور صرف مختلف آلات اور ٹیسٹوں کے زرہعے ہی پرکھا جاتا ہے۔

سونے کے پہاڑ والی بات کے غلط ہونے اندازہ اس پات سے ہی لگایا جا سکتا ہے کہ جو چیز خود ننگی آنکھ سے نظر نہ آئے بھلاوہ پہاڈ کیسے بنائے گی- البتہ انٹرنیٹ پہ لوگ لوہے کی ایک منرل پائیرائیٹ کی تصاویرلگا کر اسے سونا بتاتے ہیں جو کہ دیکھنے میں عام آدمی کو واقعی سونا لگتا ہے۔ یہ قدرتی ماحول میں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے اور ہاں اس کے پہاڑ بھی ملتے ہیں۔

اگر بلوچستان میں سونے کی بات کی جائے تواکثر رکوڈک کا زکر آتا ہے جو کہ واقعی تانبے اور سونے کے بہت پڑے زخائر ہیں- لیکن لوگ یہ بات نہیں جانتے کہ بلوچستان میں موجود  تانبے کی بیلٹ میں رکو ڈک جیسے 14 اور زخائر بھی موجود ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top