The news is by your side.

Advertisement

امریکا: جنسی ہراسگی کا الزام، گوگل نے درجنوں ملازمین برطرف کردئیے

کیلیفورنیا : معروف امریکی کمپنی گوگل نے اینڈی روبن کو ایگزٹ پیکج دینے کے الزام کی تردید کرتے ہوئے بتایا کہ کمپنی 2016 سے اب تک 48 افراد کو جنسی ہراسگی میں ملوث ہونے پر ملازمت سے برطرف کرچکی ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی خبر رساں ادارے کے جانب سے معروف ٹیکنالوجی کمپنی گوگل پر لگائے گئے الزامات کے رد عمل میں سی ای او نے جاری بیان میں کہا ہے کہ گوگل کسی بھی ناقابل برداشت رویے پر سخت اقدامات کررہی ہے۔

امریکی اخبار کی جانب سے گوگل پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ گوگل انتظامیہ نے انڈروئیڈ سافٹ ویئر کے بانی اینڈی روبن کو قابل اعتراض حرکت کرنے کے الزامات کے باوجود 9 کروڑ ڈالر کا ایگزٹ پیکج دیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ اینڈی روبن کے ترجمان نے نیو یارک ٹائم کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انڈروئیڈ کے بانی نے سنہ 2014 میں ’پلے گراؤنڈ‘ نامی ٹیکنالوجی کمپنی بنانے کےلیے گوگل کو خیر باد کہا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق گوگل نے اینڈی روبن کو ایک ’ہیرو کی طرح‘ خیر باد کہا تھا۔

معروف ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سندر پچائی کا کہنا ہے کہ اخبار میں شائع خبر ’تکلیف دہ‘ ہے، لیکن ٹیکنالوجی کمپنی ملازمت کے لیے محفوظ مقام فراہم کے حوالے سنجیدہ ہے۔

سندر پچائی کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ گوگلل جنسی ہراسگی یا غیر اخلاقی معاملات سے متعلق شکایات پر مکمل تحقیقات کرتی ہے اور ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے ملازمت سے فارغ کردیتی ہے۔

گوگل کے سی ای او نے بتایا کہ کمپنی 2016 اب تک 48 افراد کو غیر اخلاقی رویوں اور جنسی ہراسگی کے واقعات میں ملوث ہونے پر نوکری سے نکال چکی ہے جس میں 13 سینیئر مینیجر بھی شامل ہیں۔

امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق کمپنی کے دو ایگزیکٹو افسران نے بتایا تھا کہ سنہ 2013 میں اینڈی ربن کو ملازم خاتون کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کی تصدیق ہونے پر سی ای او لیری پیج نے ملازمت سے استعفیٰ دینے کا کہا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں