The news is by your side.

Advertisement

حکومت کا سینیٹ انتخابات 2018میں ووٹ بیچنے کی ویڈیوز بطور شواہد سپریم کورٹ لے جانے پر غور

اسلام آباد : حکومت نے سینیٹ انتخابات 2018میں اراکین کی جانب سے ووٹ بیچنے کی ویڈیوز بطور شواہد سپریم کورٹ لے جانے پر غور شروع کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران سینیٹ کے الیکشن سےمتعلق گفتگو ہوئی اور سینیٹ انتخابات 2018میں اراکین کی جانب سے ووٹ بیچنے کی ویڈیوز کو بطور شواہد سپریم کورٹ لے جانے پر غور کرنے کا فیصلہ کیا ، ویڈیوز کو اوپن بیلٹنگ کیس میں بطور شواہد پیش کیا جاسکتا ہے، اس حوالے سے قانونی ماہرین سے مشاورت کی جائے گی۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں اوپن ووٹ پرانتخابات ہوں، میں چاہتا ہوں ووٹ پرقیمت نہ لگے۔

اس سے قبل وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی کابینہ میں شہزاداکبر نے اس ویڈیوکی نشاندہی کی ، ہارس ٹریڈنگ کی وجہ سے ہی پارٹی سے لوگوں کو نکالا گیا، ویڈیو میں نظر آنیوالے لوگ سیاست پر دھبہ ہیں اور سیاستدان کہلانے کے لائق نہیں۔

فوادچوہدری کا کہنا تھا کہ پیسے لینےاوردینےوالوں نے سیاست کو گندا کردیا ہے ، ایسے لوگوں کی وجہ سے سیاست سے عوام کا اعتبار اٹھ گیاہے، پیسے لینے اور دینے والےلوگوں سے لاتعلق اختیار کرنی چاہیے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے 2018 کے سینیٹ انتخابات میں لوگ خریدے، بینظیر بھٹو کیخلاف نوازشریف عدم اعتماد لائے تو یہ سلسلہ شروع ہوا، سپریم کورٹ کو سوموٹو لیکر ویڈیو کو دیکھنا چاہیے، سپریم کورٹ کو ازخودنوٹس لیکر وڈیو اپنے پاس منگوانی چاہئے۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی جماعتیں ووٹوں کی خریدو فروخت کو جاری رکھنا چاہتی ہیں، اوپن بیلٹنگ کے مخالف خرید و فروخت کو جاری رکھنا چاہتے ہیں، ہم سیاست میں ووٹوں کی خرید و فروخت کی مخالفت کررہے ہیں، عمران خان 2013 سے کہہ رہے ہیں سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹنگ سے ہونا چاہئے۔

فواد چوہدری نے مزید کہا یہ ویڈیوزسپریم کورٹ،عوام کیلئے آنکھیں کھول دینےوالے انکشافات ہیں، ہم ووٹوں کی خریدوفروخت کی سیاست کرنیوالوں کو پکڑیں گے ، مجھے امیدہےکہ سپریم کورٹ ججز بھی یہ ویڈیو دیکھ رہے ہونگے، میری گزارش ہوگی کہ سپریم کورٹ آج معاملے کو ایسی کیس کا حصہ بنائے، سپریم کورٹ کواس ویڈیو کا ازخود نوٹس لینا چاہئے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ووٹوں کی خریدوفروخت کرنیوالوں پرآرٹیکل 63 لاگو ہوتا ہے، سپریم کورٹ نوٹس لے تو فائدہ اٹھانے والے سامنے آجائیں گے، سپریم کورٹ ازخود ٹس لیکر معاملےکو منطقی انجام تک پہنچائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں