The news is by your side.

Advertisement

دنیا کا ایک اور خوبصورت جزیرہ دریافت

سائنس دانوں نے قطب شمالی کے قریب ایک چھوٹا سا جزیرہ دریافت کیا ہے، جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ زمین کا "انتہائی شمالی” خشک مقام ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق گرین لینڈ کے ساحلی خطے میں واقع ایک نئے جزیرے کو دنیا کا انتہائی شمال کا زمینی مقام قرار دیا گیا ہے۔

محققین رواں برس جولائی میں اس جگہ پر پہنچے تھے، تاہم وہ سمجھے کہ شاید یہ گرین لینڈ کا شمالی علاقہ ‘عودق‘ ہے۔ عودق جزیرے کو اب تک زمین کا انتہائی شمالی علاقہ سمجھا جاتا تھا۔

کوپن ییگن یونیورسٹی کے شعہ ارضیاتی سائنس اور قدرتی وسائل سے وابستہ اور گرین لینڈ میں آرکٹک ریسرچ اسٹیشن کے سربراہ مورٹن راش کے مطابق ہمیں بتایا گیا کہ شاید میرے جی پی ایس میں کوئی گڑ بڑ ہے، جس کی وجہ سے ہم عودق جزیرے پر آن پہنچے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہمارا ارادہ کسی نئے جزیرے کو دریافت کرنا نہیں تھا، ہم تو وہاں بس نمونے اکٹھے کرنے اتفاقاً وہاں گئے تھے جس کے بعد ہم پر اس بات کا انکشاف ہوا۔

اس مقام پر پہنچنے کے بعد سائنسدانوں کا خیال تھا کہ وہ اووڈک نامی جزیرے پر موجود ہیں جس کو 1978 میں ڈنمارک کی سروے ٹیم نے دریافت کیا۔

مگر جب انہوں نے لوکیشن کی جانچ پڑتال کی تو انہٰں احساس ہوا کہ وہ اووڈک سے شمال مغرب میں 780 میٹر دور ایک دوسرے جزیرے پر موجود ہیں۔

ماہرین نے بتایا کہ ہر ایک پہلے اس بات پر خوش تھا کہ ہم نے اووڈک جزیرے کو ڈھونڈ لیا ہے، یہ ماضی کی مہمات کی طرح تھا جب لوگ سوچتے تھے کہ وہ کسی مخصوص مقام پر ہیں مگر درحقیقت انہیں نے ایک نیا مقام دریافت کرلیا ہوتا ہے۔

یہ چھوٹا سا جزیرہ 30 میٹر تک پھیلا ہوا ہے جس کا ابھی کوئی نام نہیں مگر سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وہ اس کے لیے ناردرن موسٹ آئی لینڈ کا نام تجویز کریں گے۔

امریکا کی جانب سے حالیہ دہائیوں میں متعدد مہمات کے دوران دنیا کے انتہائی شمالی جزیرے کو تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ نیا جزیرہ برف پگھلنے سے سامنے آیا ہے اور یہ براہ راست گلوبل وارمنگ کا نتیجہ ہے۔

جس کے باعث گرین لینڈ کی برفانی پٹی سکڑ گئی ہے مگر ان کا کہنا تھا کہ یہ جزیرہ بہت جلد سمندر میں گم ہوجائے گا، مگر فی الحال یہ دنیا کے شمال کا آخری  زمینی حصہ ہے جو بار بار ابھرتا ڈوبتا رہے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں