The news is by your side.

Advertisement

مادام بواری کے خالق گستاؤ فلابیر کا تذکرہ

گستاؤ فلابیر انیسویں صدی کا ناول نگار اور ڈراما نویس تھا جسے حقیقت پسند مکتبِ فکر کا نمائندہ کہا جاتا ہے۔ وہ اپنے ناول مادام بواری کے سبب مشہور بھی ہوا اور اسے مطعون بھی کیا گیا۔ اس ناول کی اشاعت پر فلابیر کو مذہبی اور سماجی اقدار کی دھجیاں بکھیرنے، جنسی کج روی اور بے حیائی اخلاقی اقدار کو نقصان پہنچانے کے مقدمے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

گستاؤ فلابیر کی تحریروں کو رومانویت پسندی اور حقیقت نگاری کا امتزاج کہا جاتا ہے۔ اس کا باپ پیرس کے قریب ایک گاؤں کے اسپتال میں ڈاکٹر تھا۔ فلابیر 1821ء میں پیدا ہوا۔ وہ زرخیز ذہن کا مالک تھا اور بیک وقت مختلف مکتب ہائے فکر کا پرچارک تھا۔ اس کا تعلق خوش حال گھرانے سے تھا۔ اس کی ماں کا خاندان بھی اعلٰی تعلیم یافتہ تھا۔ فلابیر کی ابتدائی تعلیم علم الادویہ اور سائنس کے میدان میں‌ ہوئی، مگر 1841 میں وہ اپنے والد کی خواہش پر قانون کی تعلیم کے حصول کے لیے پیرس چلا گیا۔ اسی زمانے میں وہ ایک پراسرار بیماری کا شکار ہوا اور اسے مرگی کا مرض تشخیص ہوا۔ 1946 میں‌ فلابیر کے والد کی وفات کے بعد اس کی بہن بھی وفات پاگئی۔ فلابیر اور اس کی ماں نے اپنے گھر میں‌ یتیم بچوں کی پرورش کی اور ان کے درمیان اپنی زندگی گزاری۔

فلابیر سیرو سیاحت کا دلدادہ تھا اور اس نے کئی ملکوں کا سفر کیا جس نے اس علم اور مشاہدے میں‌ اضافہ کیا۔ وہ ادب کی طرف متوجہ ہوا اور یہاں بھی کمرشل فکشن کے بجائے معیاری ادب تخلیق کیا۔ اس نے اپنے اسلوب اور انداز کو پُراثر بنانے پر خاص توجہ دی اور اس میں‌ کام یاب رہا۔

فلابیر نے ایک لغت بھی مرتب کی تھی جو اس کی وفات کے بعد شایع ہوئی۔ وہ اپنے ایک ناول کا آدھا کام کرچکا تھا کہ 1880 میں آج ہی کے دن مرگی کا دورہ پڑنے سے وفات پا گیا۔ فلابیر نے پانچ ناول لکھے جو اس کے اسلوب کی وجہ سے پسند کیے جاتے ہیں۔ مادام بواری اس کا بہت مشہور ناول ہے جو 1857 میں‌ شایع ہوا۔ اس ناول کا کئی زبانوں‌ میں‌ ترجمہ ہوچکا ہے جن میں‌ اردو بھی شامل ہے۔ یہ ایک مقامی عورت کے معاشقوں کے المیوں کی روداد ہے۔ مادام بواری کو نہایت عمدہ اور معیاری تخلیق قرار دیا جاتا ہے جس کی ہیروئن ایما بواری غریب ہونے کے باوجود اپنے جذبات کا اظہار کرنے کی جرات رکھتی ہے۔ تاہم اس کی رومان بھری آرزوؤں کو روایت اور سماج کی وجہ سے المیوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں