The news is by your side.

Advertisement

حلیم عادل شیخ کو رہائی کا پروانہ مل گیا

کراچی: کم وبیش ڈیڑھ ماہ مختلف کیسز میں قید اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی کو بالاآخر رہائی کا پروانہ مل گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق حلیم عادل شیخ پر جلاؤ گھیراؤ ، کارسرکار میں مداخلت اورپولیس اہلکار زخمی کرنےکا الزام تھا، پی ٹی آئی رہنما پر تمام مقدمات تھانہ میمن گوٹھ میں درج تھے، ان مقدمات کے باعث وہ دو ماہ تک قید رہے۔

آج حلیم عادل شیخ کی رہائی کے لئے سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے نیا ریلیز آرڈر جاری کیا گیا، ان کی رہائی ضمنی الیکشن کے دوران ہنگامہ آرائی اور دہشت گردی کے کیسز میں ضمانتیں ہونے کے باعث عمل میں آئیں۔

سندھ ہائی کورٹ نے پچیس مارچ کو ان کیسز میں ضمانت منظور کرتے ہوئے 2،2لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔

رہائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حلیم عادل شیخ نے کہا کہ پارٹی،حامیوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نےمیرے لیےدعائیں کیں ساتھ ہی انہوں نے وزیراعلیٰ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ شکریہ مراد علی شاہ کا جنہوں نے ڈیڑھ ماہ میں سیاسی دہشتگرد بنا کر پیش کیا، سندھ حکومت نے میرا کئی سال کا سفر ڈیڑھ ماہ میں مکمل کرادیا، حکومت سندھ ،مراد علی شاہ ،آصف زرداری کا شکریہ کہ میرا بڑھایا۔

حلیم عادل شیخ کا کہنا تھا کہ میں ایسا دہشت گرد تھا جس کے پاس کچھ نہیں تھا کسی کو زخمی نہیں کیا، ڈیڑھ ماہ میں سندھ حکومت کاسیاسی انتقام بےنقاب ہوچکا، ثابت ہوا کہ سندھ میں سیاسی مقدمات بنائے جاتے ہیں۔

اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی کا کہنا تھا کہ سندھ میں سیاسی مخالفیں پر دہشتگردی کےمقدمات بنا دیئے جاتے ہیں، میری جنگ میرا مسئلہ سندھ کےعوام ہیں،غریبوں کی بات کرتا ہوں، اپوزیشن لیڈر آفس میں ایک سیل کھولنے جارہے ہیں اس کی مدد سے پورے سندھ میں جہاں ناانصافی ہوگی اسکے خلاف آواز اٹھائیں گے۔

اس سے قبل تجاوزات آپریشن میں ہنگامہ آرائی کیس میں اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی پہلے ضمانت حاصل کرچکے ہیں۔

دوران حراست اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ کی بیٹی عائشہ حلیم نے الزام عائد کیا تھا کہ پیپلزپارٹی میرے والد کو جیل میں قتل کروانا چاہتی تھی، والد کو کچھ بھی ہواتوذمہ دارپی پی اور سندھ حکومت ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیراعظم کا حلیم عادل شیخ کی صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار

سندھ پولیس کی حراست میں قائدحزب اختلاف حلیم عادل شیخ کے کمرے میں سانپ نکل آیا تھا، جسے حلیم عادل شیخ نے مارڈالا تھا، بعد ازاں جیل میں ان کی طبیعت بھی بگڑی، وزیر داخلہ شیخ رشید نے اپوزیشن لیڈرحلیم عادل شیخ کیساتھ نارواسلوک کا نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکریٹری سندھ سے رپورٹ طلب کی اور ہدایت دی تھی کہ حلیم عادل شیخ کو ضروری طبی سہولتیں مہیا کی جائیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے کراچی میں زیر حراست اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ کی صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں