The news is by your side.

Advertisement

باغِ داد، نوشیروانِ عادل اور بغداد

آج سے کئی سو سال قبل دجلہ کے کنارے آباد ہونے والوں نے اپنی بستی کو اپنے معبود سے منسوب کیا تھا۔ ’’بغ‘‘ ان کے ایک بُت کا نام تھا اور فارسی میں’’داد‘‘ کا ایک معنیٰ ’’عطیہ‘‘ ہے۔ اس سے مراد بغ کا تحفہ یا اس کی عطا تھی اور یقیناً یہ نام اُس معبود سے عقیدت اور احسان مندی کا مظہر تھا۔ تاہم بعض مؤرخین نے اسی بستی کو’’باغِ داد‘‘ لکھا ہے اور کہا جاتا ہے کہ بعد میں‌ یہی ’’بغداد‘‘ ہو گیا۔

ظفر سیّد نے اپنے ایک مضمون میں بغداد کا تعارف یوں‌ کروایا ہے:
’’دریائے دجلہ کے دونوں کناروں پر آباد بغداد، الف لیلہ کی شہرزاد کا شہر، خلیفہ ہارون الرّشید اور مامون کے قائم کردہ دارُالترجمہ کا شہر تھا۔ یہ وہ شہر تھا جہاں مترجموں کو کتابیں تول کر سونا بطور معاوضہ دیا جاتا تھا۔ یہ دلکشا مسجدوں، وسیع کتب خانوں، عالی شان محلّات، سرسبز باغات، لبا لب بازاروں، علم افروز مدرسوں اور پرتعیش حماموں کا شہر تھا۔‘‘

آج کا بغداد عراق کا دارُالحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ ماضی میں خلافتِ عباسیہ کا مرکز تھا۔ ظفر سیّد لکھتے ہیں:
’’بغداد کی بنیاد مستعصم باللہ کے جد ابوجعفر بن المنصور نے سنہ 762 میں بغداد نامی ایک چھوٹے سے گاؤں کے قریب رکھی تھی۔ صرف چند عشروں کے اندر اندر یہ بستی دنیا کی تاریخ کے عظیم ترین شہروں میں شامل ہو گئی۔ ہندوستان سے لے کر مصر تک کے علما، فضلا، شاعر، فلسفی، سائنس دان اور مفکر یہاں پہنچنے لگے۔ اسی زمانے میں مسلمانوں نے چینیوں سے کاغذ بنانے کا طریقہ سیکھ لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے شہر علمی سرگرمیوں سے معمور ہو گیا۔‘‘

وہ لکھتے ہیں:
’’دارالترجمہ بیت الحکمہ میں یونانی، لاطینی، سنسکرت، سریانی اور دوسری زبانوں سے کتابیں ترجمہ ہونے لگیں۔ یہی کتابیں صدیوں بعد یورپ پہنچیں اور انھوں نے یورپ کی نشاۃ الثانیہ میں اہم کردار ادا کیا۔ الجبرا، ایلگوردم، الکیمی، زینتھ، الکوحل وغیرہ جیسے درجنوں الفاظ بغداد کے اسی سنہرے دور کی دین ہیں۔‘‘

اس زمانے میں‌ دنیا کے کئی ممالک کے درمیان بغداد کی اہمیت بالخصوص عالمِ‌ اسلام میں اس کی امتیازی حیثیت پر غیر مسلم مؤرخین نے بھی اپنی کتابوں‌ میں طویل باب باندھے ہیں۔ خاص طور پر منگولوں کے ہاتھوں اس شہر کی بربادی کا نقشہ کھینچا ہے اور تاتاری فوج کے بغداد شہر میں داخل ہو کر قتلِ عام کا دل سوز احوال بھی رقم کیا ہے۔

نام ور ادیب عظیم بیگ چغتائی زوالِ‌ بغداد کے عنوان سے اپنے مضمون میں‌ لکھتے ہیں:

’’تین روز تک کشت و خون جاری رہا اور تمام گلی کوچوں میں خون کے نالے بہتے رہے اور دریائے دجلہ کا پانی میلوں تک سرخ ہو گیا۔ محلاّت، مساجد اور روضہ جات، سنہری گنبدوں کی وجہ سے جلا کر خاک کر دیے گئے۔ شفا خانوں میں مریض، کالجوں میں طالبِ علم اور استاد تہِ تیغ کر دیے گئے۔ مقبروں میں شیخوں اور اماموں کی لاشیں جلا کر خاک کر دی گئیں۔ کتابیں یا تو آگ میں پھینک دی گئیں اور یا دجلہ میں ڈبو دی گئیں۔ اس طرح سے ہزاروں برس کے اکٹھے کیے ہوئے علمی خزانے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نیست و نابود کر دیے گئے اور یہ قوم کی قوم ہمیشہ کے لیے برباد کر دی گئی۔‘‘

اُمّ البلاد بغداد کو عباسی خلیفہ مستعصم باللہ کے دورِ حکومت میں ہلاکو خان نے تاراج کیا تھا۔

یہاں ہم اُس قدیم بستی یا آٹھویں صدی عیسوی کے شہر کے نام کو موضوع بنائیں یا اس کی وجہِ تسمیہ جاننا چاہیں تو ڈاکٹر عبدالستّار صدیقی جیسے عظیم محقّق اور کئی زبانوں‌ کے عالم کے ایک نہایت معلومات افزا مضمون سے مدد لی جاسکتی ہے۔ وہ اپنے ایک مقالے میں لکھتے ہیں:

’’ایران اور ہندوستان میں عام طور پر یقین کیا جاتا ہے کہ بغداد نوشیروان عادل کا باغ تھا جہاں بیٹھ کر وہ مظلوموں کی داد رسی کیا کرتا تھا۔ لوگ اس باغ کو باغِ داد کہنے لگے اور پھر کثرتِ استعمال سے اضافت کا کسرہ گر گیا اور فکِّ اضافت کے ساتھ ساتھ باغ کا الف بھی جاتا رہا۔ اس طرح باغِ داد سے بغداد ہوگیا۔ فارسی کے فرہنگ نویسوں نے بھی اسے مان لیا۔‘‘

ڈاکٹر صاحب کی کتاب مقالاتِ صدیقی میں‌ لکھا ہے، ’’یہاں سب سے پہلے سوال اٹھتا ہے کہ کیا تاریخ کی رُو سے یہ صحیح ہے کہ نوشیروان ایک باغ میں بیٹھ کر مظلوموں کی فریاد سنا کرتا تھا اور اگر ایسا تھا تو وہ باغ کیا اسی جگہ تھا جہاں آگے چل کے منصور کا پایۂ تخت آباد ہوا؟ ایران کے بادشاہوں کا حال فارسی میں سب سے زیادہ فردوسی کے شاہ نامے میں ملتا ہے۔ شاہ نامے کو ہم صحیح معنوں میں تاریخ نہیں کہہ سکتے، اس لیے کہ جو روایتیں ایران میں مشہور تھیں اور فردوسی کو پہنچی اس نے نظم کر دیں۔ ان کی چھان بین کرنے کا کوئی سامان اس کے پاس نہ تھا، نہ ہی ایک شاعر کو اس کی ایسی کچھ ضرورت تھی۔ پھر بھی یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ جو کچھ فردوسی نے لکھا ہے وہ سراسر بے بنیاد ہے اور توجہ کے قابل نہیں ہے۔ اس لیے اُس کے شاہ نامے پر بھی ایک نظر ڈال لینا چاہیے۔ شاہ نامے میں بغداد کا ذکر کئی جگہ آیا ہے۔ ان میں سے چار جگہ نوشیروان سے پہلے کے بادشاہوں کے حال میں ہے۔ اسی بارے میں آگے انھوں‌ نے لکھا ہے، کیخسرو(بادشاہ) نوشیروان سے تو کیا دارا اور سکندر سے بھی سیکڑوں برس پہلے ہوا ہے۔ اس لیے ماننا پڑے گا کہ فردوسی کے نزدیک نوشیروان کے باغِ داد سے بہت پہلے بغداد موجود تھا۔ البتہ یہاں ایک گنجائش ہے کہ شہر ملک کو بھی کہتے ہیں جیسے شہر ایران اور شہر توران خود شاہ نامے میں بہت آیا ہے۔ اور شہر یار اور شہر بدر کے لفظوں میں اس کے معنی دیس ہیں نگر نہیں۔ اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ فردوسی کا مطلب شہرِ بغداد سے وہ ملک یا خطّہ ہے جہاں اس کے زمانے میں بغداد آباد تھا۔‘‘

’’مشہور عرب مؤرخ مسعودی نے دو مختلف باتیں لکھی ہیں: ’اور باغ فارسی میں بستان کو کہتے ہیں، اسی لیے بغداد کہا گیا اور یہ بھی کہتے ہیں کہ مجوسی مذہب کے ظہور سے اور اس زمین پر فارس کا غلبہ ہونے سے پہلے یہ مقام ایک باغ، نام بُت کا استھان تھا۔ پہلا قول زیادہ مشہور ہے اور ایسا ہی ابنِ طاہر نے اپنی کتاب میں جو بغداد کے حالات پر ہے، کہا ہے اور، اور مصنّفوں نے بھی۔‘

ڈاکٹر صاحب مزید لکھتے ہیں،’’یہ سب کچھ تو کہا گیا مگر اس بات کا کہیں ذکر نہ آیا کہ وہاں نوشیروان اپنے کسی باغ میں ہفتے میں ایک دن بیٹھ کے مظلوموں کی داد رسی کیا کرتا تھا۔ پہلوی اور سریانی مآخذوں میں بھی جو عربی تصنیفوں سے زیادہ پرانے ہیں، اس باغ کا کوئی حوالہ نہیں ملتا۔‘‘

وہ اپنے تحقیقی مضمون میں لکھتے ہیں، ’’اس زمانے میں بغداد کی حیثیت ایک بڑے گانو (گاؤں) سے زیادہ نہ تھی۔ مکان جو بستی میں تھے تقریباَ سب کے سب کچی اینٹ کے تھے۔ جہاں تک تاریخ کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کچی عمارت بھی کوئی ایسی نہ تھی جسے نوشیروان نے بنوایا ہو۔ اس پر بھی کوئی باغِ داد والی کہانی کو سچ جانے تو یہی مان لینا پڑے گا کہ نوشیروانِ عادل اپنی عدالت کا اجلاس اُسی باغ کے کسی پیڑ کے نیچے کرتا ہوگا، مگر یہ بات عقل سے دور اور بہت دور ہے کہ مدائن کے آرام دہ محلوں کو چھوڑ کر وہ ہر ہفتے پچیس میل کا سفر کر کے ایک ایسی جگہ داد رسی کرنے جاتا ہو جہاں نہ دھوپ سے بچاؤ کی کوئی صورت تھی، نہ مینہ سے۔‘‘

ڈاکٹر صاحب ایک جگہ یوں‌ رقم طراز ہیں، ’’ایک اور بات بھی سوچنے کی ہے۔ یہ بھی مان لیجیے کہ بغداد کی اوّلین صورت باغِ داد تھی تو اس کے ساتھ ہی ساتھ یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ایک مدّت تک پہلی صورت رہی اور اس پر بہت طویل زمانہ گزرنے کے بعد مخفّف صورت وجود میں آئی ہو گی۔‘‘

’’پندرہ بیس برس میں شاید عام طور پر باغِ داد سے بغداد ہوگیا ہو، یعنی اضافت کا کسرہ حذف ہو گیا ہو۔ اس طرح 575ء تک بغداد کی یہ صورت پیدا نہ ہوئی ہو گی مگر ہجرت کے تیرہویں‌ برس ربیعُ الاوّل یا ربیعُ الثانی (یعنی مئی، جون 634ء) میں جب بغداد کا بازار لٹا تو اس کا نام بلاشبہ بغداد تھا، باغِ داد نہ تھا اور یہ فرض کرنا غلط نہ ہو گا کہ اس سے کم سے کم تیس چالیس برس پہلے بھی یہ نام بغداد ہی تھا۔‘‘

ڈاکٹر عبدالستّار صدیقی کا یہ مضمون طویل ہے اور کئی مستند تاریخی واقعات اور روایات سے مدد لے کر مصنّف نے اس قدیم بستی اور عباسی دور کے اہم تہذیبی اور علمی مرکز کو ہر دور کا بغداد ہی بتایا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں