The news is by your side.

Advertisement

حوثیوں نے 40 لاکھ بچوں کی زندگی تباہ کر دی، یمنی حکومت

صنعاء: یمنی حکومت نے کہاہے کہ باغی حوثی ملیشیا نے ملک میں 40 لاکھ سے زیادہ بچوں کی زندگی تباہ کر ڈالی ہے، ملیشیا نے جنگ مسلط کر کے بچوں کی اکثریت کو کام کی تلاش پر مجبور کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق حوثیوں نے یمنی خاندانوں کی معاشی حالت کا استحصال کرتے ہوئے بچوں کو لڑائی کے محاذوں پر جھونک دیا،باغیوں نے ان بچوں کو مال کا لالچ دے کر اپنی صفوں میں شامل کر لیا۔

یمنی حکومت نے ایک بار پھر اس موقف کو دہرایا کہ یمن میں تنازع کا حل اس کی جڑوں کو ختم کر کے ہی ممکن بنایا جا سکتا ہے، اس واسطے بغاوت کو کچلنا، حوثیوں کی جانب سے ہتھیا لیے جانے والے ریاستی اداروں کو واپس لینا اور یمنی عوام کے مصائب کا خاتمہ لازم ہے۔

اقوام متحدہ میں یمن کے مستقل مندوب عبداللہ السعدی کے مطابق مسلح حوثی ملیشیا نے 30 ہزار سے زیادہ یمنی بچوں کو بھرتی کر کے انہیں تنازع میں استعمال کیا ، ان میں 3279 بچے اور بچیاں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، یہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔

السعدی نے یہ بات جمعے کے روز سلامتی کونسل میں بچوں اور مسلح تنازع کے حوالے سے ہونے والے ایک کھلے مباحثے میں بتائی۔

یمنی مندوب کے مطابق بھرتی کی کارروائیوں میں اسکول کے طلبہ و طالبات اور یتیم خانوں اور دار الامان کے بچے شامل ہیں۔

باغی حوثی ملیشیا نے محض گذشتہ دو برسوں کے دوران 16 لاکھ بچوں کو اسکول جانے سے محروم کر دیا، اس دوران باغیوں نے 2372 اسکولوں کو بم باری سے مکمل یا جزوی طور پر تباہ کر ڈالا،حوثیوں نے 1600 اسکولوں کو جیلوں اور عسکری بیرکوں میں تبدیل کر دیا۔

السعدی نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ یمن کے بچوں کو بدترین صورت میں قتل اور بھرتی کیے جانے کے علاوہ تعلیم، صحت اور سماجی امور سے متعلق بنیادی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حوثی ملیشیا کی صفوں سے حراست میں لیے جانے یا گرفتار کیے جانے والے بچوں کی نفسیاتی بحالی کا کام انجام دیا جا رہا ہے،اس سلسلے میں ان کو مارب کے خصوصی مرکز میں رکھا جاتا ہے، اس مرکز کو شاہ سلمان امدادی مرکز کی سپورٹ حاصل ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ یہ مرکز انٹرنیشنل ریڈ کراس تنظیم کے ساتھ بھی رابطے میں ہے، ان بچوں کو ان کے گھرانوں کے حوالے کیا جا رہا ہے۔یمنی بچوں کا یہ استحصال تمام تر بین الاقوامی قوانین اور بچوں کے حقوق کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں