The news is by your side.

Advertisement

ایلوپیشیا بیماری، ٹوٹکے استعمال کرنے کے کیا نتائج نکلتے ہیں؟ جانیے

پاکستان کے شہر سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والی نوجوان ڈاکٹر نے بال جھڑنے  یا گنج پن کی بیماری ’ایلوپیشیا‘ سے متعلق اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں بذریعہ ویڈیو لنک‌ تفصیلی گفتگو کی۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عزہ مقصود نے بتایا کہ وہ خود بھی ایلوپیشیا (بال جھڑنے) کی بیماری کا شکار رہ چکی ہیں اور انہوں نے بیس سال تک اس کا سامنا کیا۔

انہوں نے بتایا کہ بال ایلوپیشیا کی بیماری میں بال اس قدر گرتے ہیں کہ گنج پن نظر آنے لگتا ہے جس کی وجہ سے انسان کی شخصیت بہت زیادہ متاثر ہوتی ہے اور پھر وہ ڈپریشن کا شکار ہوجاتا ہے۔

ڈاکٹر عزہ مقصود نے اپنے عزم کی وجہ سے نہ صرف مرض سے چھٹکارا پایا بلکہ اب وہ لوگوں کا علاج اور انہیں مفت مشورے بھی دیتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ بیس سال تک بیماری سے لڑتی رہیں، پانچ سال تک ٹوٹکوں پر عمل کیا، کبھی لیموں کا جوس، لہسن کا پانی، ایلوویلا کا جیل، مختلف تیل وغیرہ بھی استعمال کیے لیکن پھر اس بات کا احساس ہوا کہ  گھریلو تو ٹوٹکے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔

ڈاکٹر عزہ کا کہنا تھا کہ ’سورج کی روشنی سے اپنے سر کو بچانا ضروری ہے، اس کے لیے دوپٹہ یا چادر لینا چاہیے، ایلوپیشیا کی وجہ سے  ذہنی تناؤ بڑھ جاتا ہے، کچھ سمجھ نہیں آتا جس کی وجہ سے انسان احساس کمتری کا شکار ہوجاتا ہے‘۔

انہوں نے بتایا کہ میں کئی سالوں تک ڈاکٹرز کے پاس چکر لگاتی رہی مگر انہوں نے بیماری کی کوئی وجہ نہیں بتائی، گریجویشن مکمل ہونے کے بعد میں نے خود ہی اس حوالے سے تحقیق کی جس سے یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ  ذہنی تناؤ کی وجہ سے بال بہت زیادہ جھڑتے ہیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں