site
stats
حیرت انگیز

اعضاء کی پیوند کاری۔ انسان اورجانورکے جینز کا خلطہ تیار

آج کے دور میں انسان کو جتنی زیادہ طبعی سہولیات دستیاب ہیں اس سے پہلے نہ تھیں ، اس کے باوجود دنیا کے ہر خطے میں لوگ نت نئی بیماریوں کا شکار ہیں۔ کہیں ویکسین افاقہ دے جاتی ہے تو کہیں اینٹی بایوٹکس۔ ان سے بھی آرام نہ آئے تو آپریشن کی سختی سے گزرنا ناگزیر سمجھا جاتا ہے، پیچیدہ ترین امراض کے لیے ڈونیٹڈ یا عطیہ شدہ اعضاء کی پیوند کاری بھی دنیا بھر میں ایک عام طریقۂ علاج ہے جس کے لیے بڑے پیمانے پر باقاعدہ ادارے سر گرمِ عمل ہیں اور بین الاقوامی سطح پر مریضوں کی انرولمنٹ کی جاتی ہے جس میں ہر دس منٹ کے بعد ایک نام کا اضافہ ہو رہا ہے ۔مگر عطیہ شدہ اعضاء کی قلت کا یہ عالم ہے کہ ہر روز اس فہرست میں شامل بائیس افراد انتظار کی سولی پر لٹکے زندگی کی بازی ہار رہے ہیں۔

اعضاء کی پیوند کاری میں درپیش ایک اور بڑا مسئلہ ٹشوز اوربلڈ گروپ کی میچنگ کا بھی ہے ، بعض اوقات کسی مریض کو بروقت کسی دوسرے شخص کا عضو لگا دیا جاتا ہے مگر وہ اس کے جسمانی نظام کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ نہیں ہو پاتا اور پیچیدگیاں بڑھتی ہی چلی جاتی ہیں۔


چینی سائنسدانوں کا انسانوں کی کلوننگ کی صلاحیت حاصل کرنے کا دعویٰ


 سائنسدان ایک طویل عرصے سے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش میں دن رات ایک کیئے ہوئے تھے تاکہ مصنوعی اعضاء کی تخلیق کو ممکن بنایا جاسکے، اس حوالے سے حال ہی میں ایک بریک تھرو سامنے آیا ہےاور سالک انسٹی ٹیوٹ کی سیل جرنل میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق سائنسدان خنزیر (پگ) کا ایک ایمبریو بنانے میں کامیاب ہوگئے ہیں جس میں خنزیر کے سیلز میں انسانی خلیات کو انفاذ یا انجیکٹ کیا گیا ہے ، جنوری میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کی ریلیز کے وقت یہ ایمبریو چار ہفتے کا ہوچکا تھا۔

humain-post

اس تحقیق کو دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر سراہا گیا اور امید ہوچلی ہے کہ انسانی خلیات خنزیر کی طرح دیگر جانوروں کے جسم میں بھی با آسانی نشونما پا سکیں گے جس سے پیوند کاری کے لیئے دستیاب اعضاء کی قلت پرکسی حد تک قابو پانا ممکن ہوگا ۔ مگر دوسری طرف اس بریک تھرو نے ایک تنازعہ بھی کھڑا کر دیا ہے، لوگ نفسیاتی طور پر ایسے اعضاء کی پیوند کاری کے حق میں ہرگز نہیں ہیں جن کی تخلیق کا عمل کسی جانور کے جسم میں ہوا ہو۔

اس کے علاوہ اس طرح کی بایو میڈیکل تکنیک سے جو عجیب الخلقت جانور جنم لیں گے وہ زمین پر کسی نئے فساد کا بھی سبب بن سکتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اس پراجیکٹ کو اب تک گورنمنٹ کی سر پرستی حاصل نہیں ہو سکی اور سالک انسٹیٹیوٹ کے سائنسدان پرائیوٹ ذرائع سے امداد حاصل کر کے اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں ۔کیونکہ اس کے متعلق عمومی عوامی رائے یہ ہے کہ آلو ، پیاز اور ہری مرچ کی طرح انسانی اعضاء کو بھی حسبِ خواہش اگایا جا سکے گا جس میں انسان اور جانور دونوں کے مخلوط سیل شامل ہوں گے۔


ڈی این اے میں تبدیلی کے ذریعے’ڈیزائنربچے‘پیدا کریں


سالک انسٹی ٹیوٹ کے لیڈ سٹڈی رائٹر کے مطابق اس بریک تھرو سےہم جلد ہی اینجل ( فرشتوں) جیسی مخلوق بنانے کے قابل ہوجائیں گے۔ اس مقصد کے لیے کسی پرندے کے انڈے میں انسانی خلیات کو انجیکٹ کیا جائیگا ۔ مگر اس طرح کے بے سرو پا تصورات نے اس جدید تحقیق کو ایک بڑے تنازعے میں تبدیل کردیا ہے، کیونکہ سائنسدانوں کا اصل مقصد کسی منفی رخ پر جا کر عجیب الخلقت جانوروں کی تخلیق کے بجائے صرف اور صرف پیوند کاری کے لیئے اعضاء کی قلت پر قابو پانا تھا ۔ جس کے لیے وہ ابھی امبریو لیول پر خنزیر میں انسانی سیلز کی نشونما پر دھیان دیئے ہوئے ہیں اور فی الوقت جینوم ایڈیٹنگ ٹول استعمال کر رہے ہیں ، تاکہ حسبِ خواہش ایک مخلوط بنایا جا سکے۔

اگرچہ سائنسدان اب تک اپنی اس تحقیق سے پوری طرح مطمئن ہیں اور انہیں قوی امید ہے کہ یہ تکنیک ناصرف پیوند کاری میں معاون ثابت ہوگی بلکہ اس کے ذریعے انسانی جسم میں ایمبریو کی تشکیل اور پیدائشی امراض کو مزید بہتر طور پر سمجھا جا سکے گا۔ مگر مستقبل قریب میں یہ تکنیک کون سے گل کھلانے والی ہے اس کے بارے میں سوشل میڈیا پر طرح طرح کی پیشن گوئیاں کی جا رہی ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top