site
stats
پاکستان

میں وزیراعظم ہوتا تو جے آئی ٹی میں پیش نہ ہوتا، خورشید شاہ

کراچی: قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ نوازشریف کی جگہ اگر میں وزیراعظم ہوتا تو جے آئی ٹی میں پیش نہ ہوتا، مجھے علم ہے کہ کٹھ پتلی کا ناچ کون نچا رہا ہے اور اس پر کون رقص کررہا ہے، میری دعا ہے اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں۔

سندھ اسمبلی کے سیشن میں بطور مہمان شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ قومی اسمبلی ختم ہوجائے تو صوبائی اسمبلی ختم کرنے کی آئین میں کوئی شق موجود نہیں، جے آئی ٹی پیشی کے بعد وزیراعظم نے قوم کو مخاطب کر کے باتیں کیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کچھ ہونے جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوازشریف نے لکھی ہوئی تقریر پڑھی جس کی کوئی حقیقت نہیں، سچائی ذہن میں ہوتی ہے اور اُسے تحریر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی، جے آئی ٹی میں اگرکچھ نہیں ہوا تو میاں صاحب قوم سے مخاطب کیوں ہوئے؟ اور اگر شریف خاندان نے اگرکچھ نہیں کیا تو میاں صاحب پارلیمنٹ میں کیوں آئے۔

پڑھیں: حکومت اور خاندان نے خود کو احتساب کے لئےپیش کردیا، میں اور میرا خاندان سرخرو ہوں گے، وزیراعظم

خورشید شاہ نے وزیر اعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میاں صاحب بادشاہ اور بھولے آدمی ہیں،  کسی کو بھولا بنانے کےلئے بھولا بننا پڑتاہے، میاں صاحب کوانکی ٹیم ہوشیاربنانےکی کوشش کرتی ہے۔

قائد حزب اختلاف نے مزید کہا کہ وزیراعظم کے جے آئی ٹی میں پیش ہونے سے سب کچھ ختم ہوگیا، پاکستان کو بنانا ری پبلک بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، جے آئی ٹی کا قطر جانا اُن کے وقار کے منافی ہے، ریاست کی مضبوطی اور کمزوری اداروں کی کارکردگی پر محیط ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top