The news is by your side.

Advertisement

اسلام آباد ہائیکورٹ کا شیریں مزاری کو فوری رہا اور گرفتاری کی تحقیقات کا حکم

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہرمن اللہ نے پاکستان تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر شیریں مزاری کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں فوری رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کی رپورت کے مطابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے شیریں مزاری کے مبینہ اغوا اور گرفتاری کیخلاف کیس کی سماعت کی، شیریں مزاری نے عدالت کو بتایا کہ 4 خواتین پولیس اہلکاروں نے مجھ پر حملہ کیا، میں نے کہا گرفتاری کا وارنٹ دکھائیں، لیکن نہیں دکھایا گیا، اسی اثناء میں ایک سادہ لباس اہلکار نے آگے بڑھ کر میرا موبائل فون چھینا اور پھر مجھے گاڑی سے گھسیٹ کر باہر نکالا گیا، اور گرفتاری کرکے مجھے سفید رنگ کی گاڑی میں لاہور کی طرف لے جایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ میں 70 سال کی ہوں اینٹی کرپشن کی عمارا نامی افسر نے مجھ پر تشدد کیا، میں نے انہیں بتایا کہ میں شوگر کی مریض ہوں، یہ جبری گمشدگی کا کیس ہے، شیریں مزاری نے عدالت کو بتایا کہ جن لوگوں نے مجھے گرفتار کیا وہ عدالت میں موجود ہیں۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے آئی جی کو ہدایت کی کہ وہ اسلام آباد پولیس کے ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرے، آئی جی اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ میں نے آج ہی چارج سنبھالا ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو اپنی ذمہ داری قبول کرنا پڑے گی، ملک کا آئین ہے جس پر ریاست قائم ہے، یہ عدالت اپنے دائرہ اختیار پر سمجھوتہ نہیں کرے گی، تاحال مطیع اللہ جان کے اغوا کی تحقیقات نہیں ہوسکیں۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم 7 دن 24 گھنٹے کام نہیں کرسکتے، مطیع اللہ جان کے کیس پر کام جاری ہے جلد تحقیقات مکمل کرلیں گے۔

چیف جسٹس نے آئی جی سے استفسار کیا کہ سربراہ جوابدہ ہے آپ بتائیں کب تک تحقیقات مکمل کریں گے، ادھر ادھر نہ گھمائیں اپنے رجسٹرار کو تو ذمہ دار نہیں ٹھہراسکتا، آئین کا احترام سب پر فرض ہے، تمام سیاسی جماعتوں کو آئین کا احترام کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: شیریں مزاری کو رات ساڑھے گیارہ بجے تک عدالت میں پیش کرنے کا حکم

اسلام آباد ہائیکورٹ نے شیریں مزاری کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا، عدالت نے وفاقی حکومت کو واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ وہ ٹی او آرز بنا کر عدالت میں پیش کرے۔

عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو شیریں مزاری کو گھر میں بھی سیکیورٹی دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آئی جی اسلام آباد انہیں گھر تک پہنچائیں، اور ان کا موبائل فون و دیگر چیزیں بھی فوری واپس کی جائیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں