The news is by your side.

Advertisement

عدالت عظمیٰ نے اعجاز جاکھرانی کی سرزنش کیوں کی؟

کراچی: عدالت عظمیٰ نے پیشی کے دوران ہجوم لانے پر سابق وزیر اعجاز جاکھرانی کی سرزنش کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق مشیر جیل خانہ جات اعجازجاکھرانی نے نیب کیسز میں گرفتاری سے بچنے کے لئے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری سے رجوع کیا تھا، اعجاز جاکھرانی نے دائر درخواست میں موقف اپنایا کہ نیب کیسز میں تعاون کرنےکےلیےتیارہوں،سپریم کورٹ نیب کو گرفتار کرنے سے روکے۔

سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ میں ہوم لانے پر جسٹس منیب اختر نے اعجاز جاکھرانی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہیہ لوگ کیوں لائے ہیں؟ عدالتوں کو کیا سمجھا ہوا ہے؟ آپ ایک سرکاری ملازم ہو، یہ لاؤ لشکر کش لیے ہے؟

جس پر اعجاز جاکھرانی نے عدالت میں موجود افراد سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں نہیں جانتا، میرا ان سے کوئی تعلق نہیں، عدالت نے اعجاز جاکھرانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ آپ کے آنے پر کھڑے ہوتے ہیں، فیصلہ سن کر جارہےہیں،یہ سب کیاہے؟یقین دہانی کرائی جائے کہ آئندہ کوئی فرد ساتھ نہیں آئےگا۔

یہ بھی پڑھیں: اعجاز جاکھرانی کیس: وفاقی وزیر کو جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنے لگی

بعد ازاں سپریم کورٹ نے اعجاز جاکھرانی کی انیس جولائی تک عبوری ضمانت منظور کرلی، نیب میں پی پی رہنما اعجاز جاکھرانی کے خلاف تین انکوائریاں چل رہی ہیں۔

یاد رہے کہ سندھ ہائیکورٹ میں اعجاز جاکھرانی کی درخواست ضمانت مسترد کی گئی تھی، نیب کی ٹیم سابق وزیر کی گرفتاری کے لئے پہنچی تو جیکب آبادمیں اعجاز جاکھرانی کےحامیوں نے نیب ٹیم پر حملہ کرتے ہوئے ان کی گرفتاری کو روک دیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں