The news is by your side.

Advertisement

کرونا مریضوں کی دماغی صحت سے متعلق ماہرین کا اہم انکشاف

واشنگٹن : امریکی سائنس دانوں نے نئی تحقیق میں عندیہ دیا ہے کہ کرونا وائرس سے متاثرہ افراد دماغی تنزلی کا شکار ہوسکتے ہیں۔

امریکا کی نیویارک یونیورسٹی گروسمین اسکول آف میڈیسین میں ہونے والی تحقیق میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ اسپتال میں زیر علاج کرونا مریضوں میں ایسے بائیو مارکرز بشمول نیورونل، گیلال اور دیگر کی سطح میں اضافے کو شناخت کیا جو دماغی تنزلی کا باعث بن سکتے ہیں۔

اس تحقیق میں ایسے افراد کو شامل کیا گیا تھا جن میں دماغی تنزلی کا باعث بننے والے مرض ڈیمینشیا کی کوئی تاریخ نہیں تھی مگر اس کے باوجود عمر کے ساتھ آنے والے تنزلی کی سطح کو الزائمر کے مریضوں سے زیادہ دیکھا گیا۔

جن مریضوں تحقیق میں شامل کیا گیا تھا ان کی اوسط عمر 71 سال تھی اور 31 فیصد کو وینٹی لیٹر سپورٹ کی ضرورت پڑی تھی، 25 فیصد کا انتقال ہوگیا تھا اور 53 فیصد بیماری کو شکست دینے میں کامیاب رہے تھے جب کہ کچھ ایسے افراد بھی تھے جو وائرس محفوظ رہے۔

سائنس دانوں نے انکشاف کیا کہ جن افراد میں کرونا کی شدت پائی جائے یا وہ کرونا مریض جو عمر رسیدہ ہوں ان کے دماغی تنزلی کا شکار ہونے کے خدشات زیادہ ہوتے ہیں اور کرونا سے متاثرہ وہ افراد جو اسپتال میں انتقال کرگئے ان کے دماغ میں بائیو مارکرز کی تعداد بہت زیادہ تھی۔

محققین نے بتایا کہ کچھ تحقیقی رپورٹس میں عندیہ دیا گیا کہ کورونا وائرس دماغی خلیات کو براہ راست متاثر کرتا ہے جبکہ دیگر میں ایسے شواہد دریافت نہیں ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ یہ شناخت کرنا کہ کووڈ کس طرح دماغی مسائل کا باعث بننے والا مرض ہے، مؤثر علاج کی دریافت کے لیے ضروری ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں