The news is by your side.

عمران خان پر قاتلانہ حملہ : سپریم کورٹ بار کا بڑا مطالبہ

اسلام آباد : وزیر آباد میں عمران خان پر قاتلانہ حملہ کی ایف آئی آر کے اندراج کیخلاف سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی سوال اٹھا دیا۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے عمران خان کی مرضی کی ایف آئی آر درج نہ ہونا ریاست کی ناکامی قرار دے دیا۔

اس حوالے سے صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری نے کہا ہے کہ واقعے کی ایف آئی آر قانونی تقاضوں کے مطابق درج کی جائے۔

سپریم کورٹ بار نے اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں واقعے کی ایف آئی آر فوری طور پر قانون کے مطابق درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ بار کے صدر نے کہا کہ ایف آئی آر کا اندراج ہر شہری کا بنیادی اور آئینی حق ہے، ایف آئی آر درج نہ کرنا غیرقانونی اور عدالتی فیصلوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پرامن احتجاج کرنا ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہے، شہریوں کے حقوق اور جان ومال کا تحفظ کرنا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری نے کہا کہ ہمارا اور کوئی مطالبہ نہیں سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل کیا جائے، مدعی کی مرضی کی ایف آئی آر درج ہونی چاہئے اور یہی اس ملک کا قانون ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پولیس کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے جبکہ ایف آئی آر میں مدعی کی شکایت درج ہوتی ہے۔،

عابد زبیری نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ ایف آئی آر درج کیوں نہیں کی گئی، یہ نہیں کہا تھا کہ پولیس کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کی جائے۔

یاد رہے گذشتہ روز عمران خان پرقاتلانہ حملےکامقدمہ پولیس کی مدعیت میں درج کیاگیا تھا، ایف آئی آرمیں فائرنگ کرنیوالے ملزم نوید ولد بشیرکو نامزد کیا گیا تھا اور قتل، اقدام قتل اور دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئیں تھیں۔

پولیس کی درج کردہ ایف آئی آر پی ٹی آئی کی درخواست سے مطابقت نہیں رکھتی تھی ، عمران خان کی جانب سے بتائے گئے ناموں کو ایف آئی آر میں ملزم نامزد نہیں کیاگیا تھا۔

مزید پڑھیں : عمران خان پر قاتلانہ حملہ، ایف آئی آر کی رپورٹ سپریم کور ٹ میں جمع

یاد رہے کہ انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس فیصل شاہکار نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر لانگ مارچ کے دوران حملے کا مقدمہ درج کرنے کی رپورٹ سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں جمع کروا دی ہے۔

آئی جی پنجاب کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قاتلانہ حملے کا مقدمہ وزیر آباد کے سٹی پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا ہے۔ مقدمے میں اقدام دفعہ 302، 324 کے ساتھ دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں،

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے آئی جی پنجاب کو 24 گھنٹوں میں عمران خان پر حملے کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دیتے ہوئے اندراج کی رپورٹ طلب کی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں