The news is by your side.

Advertisement

عمران خان کا خطاب، متوقع پالیسیوں پر اظہار خیال، دھاندلی الزامات کی تحقیقات کی پیش کش

اسلام آباد: پاکستان کے متوقع وزیر اعظم عمران خان نے اپنے خصوصی خطاب میں کہا کہ وہ دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات اور ہر نوع کے تعاون کے لیے تیار ہیں۔ 

تفصیلات کے مطابق وفاق میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے بنی گالا میں خصوصی خطاب کیا۔  اس موقع پر انھوں نے پاکستان کو متحد دیکھنے کی خواہش اور عزم ظاہر کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ 22 سال پہلےجو جدوجہدشروع کی تھی، آج اس میں کامیابی ملی، چاہتاتھا، پاکستان وہ ملک بنے،جس کاقائداعظم نے خواب دیکھا تھا۔ پاکستان کو مدینہ جیسی ریاست فلاحی ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتا ہوں۔

الیکشن میں لوگوں نے بہت قربانیاں دی،عوام کوداد دینا چاہتا ہوں، پاکستان کےعوام کوانتخابات میں شرکت پرخراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ جمہوری عمل کوآگےبڑھتےہوئےدیکھ رہےہیں، انتخابی مہمات میں دہشت گردی کےواقعات ہوئے، ہارون بلور،سراج رئیسانی سمیت کئی اہم رہنماشہید ہوئے۔

معاشی پالیسی

عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا، وعدہ کرتاہوں، عوام کےٹیکس کے پیسوں کی حفاظت کروں گا، عوام ٹیکس اس لیےنہیں دیتے، کیوں کہ وہ دیکھتےہیں کہ حکمران ان پیسوں سے عیاشی کرتے ہیں۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ ہم اپنےسارےخرچےکم کریں گے، وزیراعظم ہاؤس کو ایجوکیشن سسٹم کے لئے دینا ہے یاہوٹل بنانا ہے، ہماری حکومت فیصلہ کرے گی، وزیراعظم ہاؤس کےذریعےکمایاگیا سارا پیسہ عوام پرخرچ کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں پہلےگورننس سسٹم ٹھیک کرناہےاورسرمایہ کاری لانی ہے، ہماراسب سےبڑااثاثہ اوورسیزپاکستانی ہیں، جن پرخصوصی توجہ دیں گے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ کرپشن کی وجہ سے پاکستان میں سرمایہ کاری نہیں آتی، اب پاکستان کوایسےچلائیں گے، جیسےماضی میں کبھی نہیں چلایاگیا، اداروں کومضبوط بنائیں گےاورسادگی قائم کریں گے۔

خارجہ پالیسی

عمران خان نے اپنی خارجہ پالیسی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ چین کےساتھ تعلقات کومزید فروغ دیں گے، سی پیک کواستعمال کرکےمزیدسرمایہ کاری پاکستان میں لائیں گے، چین نے70کروڑلوگوں کوغربت سےنکالا، کرپشن کےخلاف ٹھوس اقدامات کیے، چین کے تجربے سےمدد حاصل کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ ہم پاکستان اور افغانستان میں امن کاخواہاں ہیں، افغانستان میں امن پاکستان میں امن ہے، چاہتاہوں، افغانستان کےساتھ اوپن بارڈرہو۔

عمران خان نے کہا کہ بدقسمتی سےامریکا کےساتھ تعلقات یک طرفہ ہیں، جس سے بہت نقصان پہنچا، ایران کےساتھ تعلقات کو اور بہترکرنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب ہرمشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہتا ہے، مشرق وسطیٰ میں جوصورتحال ہے، چاہتے ہیں کہ پاکستان اس میں کردارادا کرے۔

بھارت سے تعلقات

عمران کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا نے جس طرح میری کردارکشی کی، اس پربہت دکھ ہوا، بھارتی میڈیا نےمجھےایسےپیشےکیا، جیسےمیں کسی فلم کاولن ہوں، پاکستان اوربھارت کےاچھےتعلقات برصغیرکے لئےاچھےہوں گے۔

انھوں نے مزید کہا کہ غربت ختم کرنےکے لئے پاکستان اوربھارت کوتجارت کرنی ہوگی، جس سےفائدہ ہوگا، بدقسمتی ہے، ہمارےمسائل میں کشمیرکےحالات شامل ہیں۔ مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بدترین مثالیں قائم کی گئیں، کوشش ہونی چاہے کہ پاکستان اوربھارت مسئلہ کشمیرکومیزپربیٹھ کرحل کریں۔

عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت ہرچیزپرپاکستان پرالزام لگاتاہے، یہ تعلقات کےلیےاچھانہیں، اگر بھارتی لیڈرشپ مذاکرات کے لیے تیارہے، تو ہم بالکل تیارہیں، تعلقات بہترہوں، چاہتےہیں پاکستان اوربھارت مل کربیٹھیں اوربات کریں۔

دھاندلی کے الزامات

عمران خان نے کہا کہ آج چند سیاسی جماعتیں کہہ رہی ہیں کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے، موجودہ الیکشن کمیشن دوسیاسی جماعتوں کی مشاورت سے منتخب کیاگیا تھا، البتہ جن حلقوں پر آپ دھاندلی کا الزام لگائیں گے، وہ ہم کھلوائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ  جو مطالبات ہیں، انھیں پورا کریں گے، دھاندلی کاجہاں بھی الزام لگاوہاں پرتحقیقات کے لئےتیارہیں،سمجھتا ہوں، پاکستان کےسب سےشفاف الیکشن ہوئےہیں، البتہ اپوزیشن کےجوبھی خدشات ہیں، ان کی تحقیقات کے لئےتیارہوں۔

احتساب پالیسی

عمران خان نے کہا کہ ہماری حکومت ایسی پہلی حکومت ہوگی، جوکسی کےخلاف سیاسی انتقامی کارروائی نہیں کرے گی۔ ادارے مضبوط ہوں گے۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ ہماری حکومت میں کوئی بھی غلط کرےگا، اس کے خلاف کارروائی ہوگی،میری ذات سےاحتساب شروع ہوگا اور سب کابلاتفریق احتساب ہوگا۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ اینٹی کرپشن ادارےکومضبوط کریں گے،ایف بی آرپرخصوصی توجہ دیں گے، نیب کےاختیارات میں اضافہ اوراسےمزیدمضبوط کریں گے۔

یاد رہے کہ 25 جولائی کو ملک میں ہونے والے عام انتخابات میں پی ٹی آئی قومی اسمبلی کی 119 سیٹیں لینے میں کامیاب رہی۔ ساتھ ہی پاکستان تحریک انصاف نے کے پی کے اور پنجاب کی صوبائی اسمبلیوں میں بھی شان دار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

کے پی کے میں پی ٹی آئی صوبائی حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہیں، جب کہ پنجاب میں بھی حکومت بنانے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔


الیکشن 2018: تحریک انصاف کو واضح برتری حاصل


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں