site
stats
عالمی خبریں

بھارت اور شمالی کوریا کا خفیہ ایٹمی تعاون سامنے آگیا

بھارت اور شمالی کوریا کا خفیہ جوہری تعاون کھل کر سامنے آ گیا،غیر وابستہ ممالک کے سمٹ میں بھارت نے شمالی کوریا کے ایٹمی تجربے کی مخالفت نہیں کی۔

اطلاعات کے مطابق سمٹ میں کولمبیا نے شمالی کوریا کے حالیہ جوہری تجربے پر مذمتی پیرا حتمی مسودے میں شامل کیا جس پر تمام ممالک نے مذمتی پیراکو مسودے میں شامل کرنے پر رضا مندی ظاہر کی لیکن بھارت نے مذمتی پیرے پر اعتراض لگا کر اس مذمتی پیرا کو اعلامیے کے مسودے سے ختم کروا دیا۔

بھارت نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت کے لیے عالمی حمایت کی کوشش کررہا ہے لیکن بھارت کی شمالی کوریا کے ایٹمی تجربات کی حمایت این ایس جی میں شمولیت پر خود ایک سوالیہ نشان ہے۔

الجزیرہ نے حال ہی میں بھارت اور شمالی کوریا کے خفیہ جوہری تعاون کا انکشاف کیا تھا جس کے مطابق بھارتی صحافی نے شمالی کوریا کے سائنس دانوں کی بھارت میں خفیہ تربیت سے متعلق ایک رپورٹ جاری کی ہے۔

بھارتی صحافی کی رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا کے 30 طالب علم بھارت کے ریسرچ سینٹر میں تربیت حاصل کر چکے ہیں،اس وقت بھی دوطالب علم دھرادن ریسرچ سنٹرمیں تربیت حاصل کر رہے ہیں جس میں سے ایک طالب علم کا تعلق شمالی کوریا کی نیشنل ایروسپیس ڈویلپمنٹ ایڈمنسٹریشن سے ہے اور این اے ڈی اے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام میں کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پابندیوں کے باوجود شمالی کوریا بھارت میں اپنے سائنس دان تربیت کے لیے بھیجتا رہا ہے اور شمالی کوریا کے سائنس دان بھارت میں جوہری تکنیکی تربیت حاصل کرتے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ نےپہلی مرتبہ سال 2006ء میں شمالی کوریا پر جوہری پابندیاں عائد کی تھیں ، پابندیوں کے تحت کوئی ملک شمالی کوریا کو تکنیکی تربیت نہیں دے سکتا لیکن بھارت شمالی کوریا کو تربیت دے کر اقوام متحدہ کی پابندیوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top