The news is by your side.

Advertisement

بھارت کا گھناؤنا چہرہ دنیا اور کشمیریوں کے سامنے بے نقاب ہو گیا ہے‘صدرآزاد کشمیر

گلگت: آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ آج مقبوضہ کشمیر کی بھارت نواز جماعتوں پر بھی واضح ہو گیا ہے کہ کشمیر پر بھارت کی حیثیت ایک قابض ملک سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔

تفصیلات کے مطابق آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کے لیے تشکیل کردہ آرٹیکل 370 کو ختم کرنے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا جو اقدام اٹھایا ہے اس سے اس کا گھناؤنا چہرہ دنیا اور کشمیریوں کے سامنے بے نقاب ہو گیا ہے۔

مقبوضہ کشمیر ایک مقبوضہ علاقہ ہے جہاں بھارت آٹھ لاکھ فوج کے ساتھ پرامن کشمیریوں کے ساتھ جنگ لڑ رہا ہے۔ دفعہ 370بھارت نے بھارت نواز جماعتوں کی وفاداریاں خریدنے کےلئے بھارتی آئین کا حصہ بنائی تھی لیکن آج مقبوضہ کشمیر کی بھارت نواز جماعتوں پر بھی واضح ہو گیا ہے کہ کشمیر پر بھارت کی حیثیت ایک قابض ملک سے زیادہ کچھ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ بھارت کا یہ اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 91اور 122کی کھلی خلاف ورزی اور جموں وکشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی بھی نفی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہلی کے حکمرانوں کے اس اقدام کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ سفارت کاری اور ثالثی کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لئے بین الاقوامی کوششوں کو سبوتاژ کیا جائے۔صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت کے اس قابل مذمت قدم سے مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی مزید زور پکڑے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ، آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کے لوگ بھارت کے جنگی جنون کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں۔

آرٹیکل 370 کیا تھا؟ مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کو کیا نقصان ہوگا؟

یاد رہے کہ بھارتی پارلیمنٹ میں آج وہاں کے وزیر داخلہ امیت شاہ نے مقبوضہ کشمیر کے لیے آئین میں خصوصی طور پر موجود آرٹیکل 370 ختم کرنے کے بل پر دستخط کردیے، اس آرٹیکل ختم ہونے سےکشمیر کی ڈیمو گرافی کو شدید نقصان پہنچے گا۔

آرٹیکل 370 ختم ہونے سے کشمیر کی بھارتی آئین میں جو ایک خصوصی حیثیت تھی ، وہ ختم ہوگئی ہے اور اب غیر کشمیری افراد علاقے میں جائیدادیں خرید سکیں گے اور سرکاری نوکریاں بھی حاصل کرسکیں گے۔

یاد رہے اس بل کو لانے سے قبل ہی بھارت نے بھاری تعداد میں اپنی تازہ دم فوجیں مقبوضہ کشمیرمیں اتاردی تھیں جس کے سبب وہاں صورتحال انتہائی کشیدہ ہے ، لوگ گھروں میں محصورہوکررہ گئے، کشمیری رہنما محبوبہ مفتی،عمرعبداللہ اورسجاد لون سمیت دیگر رہنماؤں کوبھی نظربند کردیاگیا ہے۔

مقبوضہ وادی میں دفعہ ایک چوالیس نافدکر کےوادی میں تمام تعلیمی اداروں کو تاحکم ثانی بنداور لوگو ں کی نقل وحرکت پربھی پابندی عائد کردی گئی ہے، سری نگر سمیت پوری وادی کشمیرمیں موبائل فون،انٹرنیٹ،ریڈیو، ٹی وی سمیت مواصلاتی نظام معطل کردیاگیا ہے جبکہ بھارتی فورسز کےاہلکاروں نےپولیس تھانوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں