site
stats
امریکا

دہشت گردوں سے تعلقات، امریکا میں مقیم بھارتی شہری کو 27 برس قید

واشگنٹن: امریکا کی عدالت نے دہشت گردوں کو معاشی مدد فراہم اور جج کو قتل کرنے کی منصوبہ سازی کا الزام ثابت ہونے پر بھارتی شہری کو 27 برس قید کی سزا سنا دی۔

فرانسیسی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی عدالت سے سزا پانے والے بھارتی شخص کی شناخت 39 سالہ یحییٰ فاروق محمد کے نام سے ہوئی جو 2002 میں تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے امریکا آیا تھا۔

بھارتی شخص کو ستمبر 2015 میں امریکی خفیہ ادارے نے بھائی سمیت گرفتار کیا تھا، دورانِ حراست ملزم نے انکشاف کیا کہ اُس نے امریکا میں پیدا ہونے والے القاعدہ کے رہنماء الانور الوکلی کو 22 ہزار ڈالر فنڈز مہیا کیے۔

ملزم نے اعتراف کیا کہ اُس نے 2009 میں‌ القاعدہ کے لیے فنڈ جمع کیے اور اُسے دینے کے لیے دو ساتھیوں‌ کے ہمراہ یمن گیا اور رقم دہشت گرد تنظیم کے حوالے کی.

مزید پڑھیں: داعش اور القاعدہ کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں: امام کعبہ

دوران حراست ملزم نے یہ بھی اعتراف کیا کہ اُس نے جج کو قتل کرنے کے لیے اوہیو جیل کے قیدی کو 15 ہزار ڈالر جبکہ ایف بی آئی کے اہلکار کو قتل کرنے کے لیے اپنے رشتے دار کو 1 ہزار ڈالر کی پیش کش کی تھی۔

یحییٰ فاروق محمد نےجج کے روبرو اپنے تمام جرائم کا اعتراف کیا جس کے بعد عدالت نے اُسے 27 سال قید کی سزا سنائی اور حکم جاری کیا کہ سزا مکمل ہونے کے بعد ملزم کو ملک بدر کردیا جائے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ملزم کو ماضی میں بھی گرفتار کیا گیا تھا اور اُسے عدالتی حکم پر امریکا کے علاقے اوہیو میں واقعے جیل میں بطور سزا قید کیا گیا تھا، ملزم اپنی سزا مکمل ہونے کے بعد 2013 میں رہا ہوگیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: القاعدہ کے امریکی رکن برائنٹ نیل وائنس کوسزا مکمل ہونے پررہائی مل گئی

فرانسسی خبررساں ادارے کے مطابق بھارت سے تعلق رکھنے والے شخص نے 2002 میں امریکا آکر مقامی لڑکی سے 2008 میں شادی کی جس کے بعد اُس کے تعلقات دہشت گرد تنظیم سے تعلق استوار ہوگئے۔

یاد رہے کہ بھارت ہر بار دہشت گردی کا جھوٹا اور بے بنیاد الزام پاکستان پر عائد کرکے امریکا سے ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، خاص طور پر مودی حکومت کے بعد سے ہندوستان نے پاکستان کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کیے مگر ان عزائم میں اُسے تاحال کو بڑی کامیابی نہیں مل سکی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top