The news is by your side.

Advertisement

بھارت کے ایک اسپتال میں نرس کا نوزائیدہ بچوں کی فروخت کا انکشاف

نئی دہلی : بھارتی ریاست تامل ناڈو میں نوزائیدہ بچوں کی فروخت کا مکروہ دھندہ سامنے آگیا، ایک نرس نے انکشاف کیا ہے کہ وہ گزشتہ 30 برس سے شیر خوار بچوں کو فروخت کررہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق بھارت کی ریاست تامل ناڈو کی ایک خاتون نے بچوں کی فروخت سے متعلق ہولناک انکشافات کیے ہیں، سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پروائرل ہونے والی ایک آڈیو کلپ میں ایک بھارتی نرس نے انکشاف کیا کہ وہ گزشتہ 30سال سے شیرخوار بچے بغیر کسی دشواری کے فروخت کررہی ہے۔

نرس کا کہنا تھا اس کام میں ان کا 30 سالہ تجربہ ہے، آڈیو کلپ کے وائرل ہوتے ہی تامیل ناڈو کے سیکرٹری صحت بیلا راجیش نے محکمہ صحت اور دیہی بہبود کے ڈائر یکٹر کو معاملے میں نظرثانی کا حکم جاری کردیا۔

خاتون نے آڈیو کلپ میں بتایا کہ ’اگر آپ کو لڑکی کی چاہیے‘ تو اس کی قیمت 2 لاکھ 70 ہزار ہے اور اگر بچی تین کلو کے برابر ہو، رنگ صاف ہو تو اس کی قیمت تین لاکھ روپے ہوگی۔

دوسری جانب نرس خاتون نے بتایا کہ اگر آپ کو نوزائیدہ لڑکا چاہیے تو اس کی قیمت 3 لاکھ روپے جبکہ خوبصورت اور صاف رنگ کے لڑکوں کی قیمت ساڑھے 3 سے 4 لاکھ ہوگی۔

بھارتی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ صرف یہی نہیں بلکہ خاتون نے یہ بھی بتایا کہ وہ 70 ہزار روپے میں برتھ سرٹیفیکٹ بھی بنوا کر دیتی ہے۔

تامیل پولیس کے مطابق یہ خاتون بھارت کے ایک سرکاری اسپتال کی سابقہ نرس ہے جسے اسپتال کے عملے کے ساتھ مل کر بچوں کی فروخت میں ملوث ہونے کے الزام میں نوکری سے نکالا گیا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق تامیل ناڈو پولیس وائرل آڈیو کلپ کی مزید تحقیقات میں مصروف ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں