The news is by your side.

بھارت کا روس سے ایل این جی دوبارہ خریدنے کا فیصلہ

بھارت نے ایک بار پھر روس سے گیس کی خریدنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اس کے لیے دونوں ممال کے درمیان بات چیت کا آغاز ہوچکا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق بھارت اس وقت روس کے ساتھ گیس کی سپلائی دوبارہ شروع کرنے کے لیے بات چیت کر رہا ہے تاکہ روس کی سرکاری توانائی کی بڑی کمپنی Gazprom اور ہندوستان کے سرکاری کنٹرول والے GAIL کے درمیان طویل مدتی درآمدی معاہدے کے تحت گیس کی سپلائی دوبارہ شروع کی جا سکے۔

اے آروائی نیوز براہِ راست دیکھیں live.arynews.tv پر

GAIL جو ہندوستان میں سب سے بڑا گیس ڈسٹری بیوٹر اور پائپ لائنوں کا آپریٹر ہے، مئی سے پہلے سے طے شدہ درآمدات وصول نہیں کرسکا اور اس کو کلائنٹس کو سپلائی کم کرنے پر مجبور کیا گیا، جس کی وجہ روس یوکرین تنازع شروع ہونے کے بعد لگنے والی یورپی اور مغربی پابندیاں تھیں۔ GAIL کے چیئرمین منوج جین نے شیئر ہولڈرز کی سالانہ میٹنگ میں کہا کہ “کچھ فوری مسائل ہیں جنہیں ہم کمپنی کی سطح پر اور G2G (حکومت سے حکومت) سطح پر بھی حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ مذکورہ بھارتی سرکاری ادارے نے 2012 میں روسی کمپنی کے ساتھ 20 سالہ معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کی شرائط کے تحت کمپنی کو سالانہ اوسطاً 2.5 ملین ٹن ایل این جی خریدنی تھی۔ معاہدے کے تحت سپلائی 2018 میں شروع ہوئی۔ معاہدے پر Gazprom مارکیٹنگ سنگاپور (GMTS) نے Gazprom کی جانب سے دستخط کیے تھے۔ تاہم GMTS Gazprom Germania کا بھی حصہ تھی اور اسے برلن نے یوکرین میں روس کے فوجی آپریشن پر مغربی پابندیوں کے ضمن میں ضبط کر لیا تھا۔

GAIL کے چیئرمین جین نے اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ روس اور یوکرین تنازع کی وجہ سے یہ معاہدہ متاثر ہوا ہے۔ مجموعی طور پر یہ ہم پر کوئی خاص اثر نہیں ڈال رہا ہے، اس سے صرف 10 سے 15 فیصد کی حد تک اثر پڑتا ہے اور گھریلو گیس کے اضافے سے مقامی سپلائی پر اثرات تقریباً 7سے 8 فیصد تک کم ہو جاتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں