The news is by your side.

Advertisement

کرونا وبا: این سی او سی کی جانب سے مزید سختیاں کرنے عائد کرنے کا عندیہ

اسلام آباد: وفاقی وزیر اور این سی او سی کے سربراہ اسد عمر نے کرونا وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے مزید سختیاں عائد کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق این سی او سی کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے اسد عمر نے بتایا کہ آج کے اجلاس میں کرونا کی صورتحال اور اقدامات کا جائزہ لیا گیا، کرونا وبا سے متعلق کل وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت این سی سی کا بھی اجلاس ہوگا، اجلاس میں تمام وزرائےاعلیٰ شرکت کریں گے۔

وفاقی وزیراسد عمر کا کہنا تھا کہ کرونا صورتحال میں بارہ اکتوبر کو این سی سی میں سفارشات رکھی گئی، اس اجلاس میں یہ بات سامنے آئی کہ ملک بھر میں کرونا کی حفاظتی تدابیر پر عمل ختم ہوچکا ہے اور دوبارہ وبا کا پھیلاؤ بڑھ رہا ہے، ایس او پیز پر عمل درآمد نہ کرنے کے باعث دو ماہ کے دوران کرونا کے مجموعی کیسز میں چار گنا اضافہ ہوا۔

اسد عمر نے اپنی میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ کرونا کی پہلی لہر کے بعد دنیا نے پاکستان کی مثال دینا شروع کی تھی، دنیا کہہ رہی تھی کہ پاکستان نے کووڈ نائنٹین کا کامیابی کیساتھ مقابلہ کیا، بل گیٹس، ڈبلیو ایچ او اور ورلڈ اکنامک فورم بھی پاکستان کی مثال دے رہا تھا۔

این سی او سی سربراہ کا کہنا تھا کہ مگر دوسری وبا کے دوران این سی او سی کی ہدایات پر عملدر آمد شروع ہوا مگر پہلے کی طرح نہیں،بدقسمتی سےکرونا کی دوسری لہر میں یکساں پیغام نہیں جارہا، اس دوران علمائے کرام ،ڈاکٹرز کی جانب سے بہت اچھا پیغام سامنے آیا، میڈیا کے اندر بھی اب پیغام کو صحیح ترجیح دی جارہی ہے ، کرونا سے لڑتے ہوئے اس وقت پاکستان میں سیکڑوں ہیلتھ ورکرز خود کرونا سے متاثر ہوچکے ہیں، نامساعد حالات میں ڈاکٹرز، طبی عملے کو اس صورتحال کا مقابلہ کرنے پر خراج تحسین پیش کرتاہوں۔

یہ بھی پڑھیں:  ہماری نہیں تو پی ڈی ایم والے اعتزاز احسن کی ہی سن لیں، اسد عمر

اسدعمر نے اپنی میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ قوم کے روزگار، صحت کی ذمہ داری این سی او سی کو دی گئی ہے، عالمی وبا سے نمٹنے کے لئے حکومت نے تکلیف دہ فیصلے کئے، جس کے باعث میرج ہالز، ریسٹورنٹس ،تعلیمی اداروں سےجڑے لوگوں کا نقصان ہوا، ہمیں مستقبل کو مدنظر رکھ کر حکمت عملی مرتب کرنی چاہیے کیونکہ کرونا صورتحال میں مستقبل دیکھنا بھی این سی اوسی کی ذمہ داری ہے۔

میڈیا بریفنگ میں اسد عمر کا کہنا تھا کہ جلسے کرنے کیلئے کرونا کا مذاق اڑانا قابل افسوس ہے، جمہوری عمل میں سیاسی جماعتیں معیشت اور عوام کو مشکل میں نہیں ڈالتی، اپوزیشن کے لوگ یہ کہتے ہیں کہ جلسےسے کرونا بھاگ جائےگا تو یہ زیادہ خطرناک ہے، ایک جگہ پر 10،20ہزار لوگ جمع ہونگے تو وبا کا پھیلاؤ بڑھےگا، احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کیا گیا تو اسپتالوں پر مزید دباؤ پڑے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں