The news is by your side.

Advertisement

جدید دنیا کی اہم ایجادات مسلم سائنسدانوں نے کریں

ہر دور میں انسان اپنی ضروریات زندگی کی تکمیل کی خاطرکائنات کی مختلف اشیاء کے مابین ربط پیدا کرکے کچھ نہ کچھ اختراع و ایجاد کرتا رہتا ہے لیکن اگرہم اسلام کے عہدِ زریں خلافت راشدہ سے لے کرمسلمانوں کے عروج کے روبہ زوال ہونے تک کے ادوار پر نظر ڈالیں تو یہ بات طشت ازبام ہو جا ئے گی کہ اگردنیا خصوصاً مغربی دنیا تعصب و تنگ نظری کا عینک اتار کرحقیقت پسندی و حق شناسی کے عینک سے دیکھے تو محو حیرت رہ جائے گی

اسلامی محققین اور مفکرین نے ایسی اشیا کی اجیاد کی یا بنیاد ڈالی جن کے بغیر آج کی جدید دنیا کا تصور بھی محال ہے تو اگر مسلم سائنس دانوں کو آج کے جدید دور کا بانی اور موجد کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ یہاں ہم چند انتہائی اہم ایجادات کا تذکرہ کرہے ہیں جنہوں نے انسانی زندگی میں انقلاب برپا کرکے رکھ دیا۔

الجبرا


محمد ابن موسیٰ الخوارزمی وہ پہلے سائنسدان ہیں جنہوں نے حساب اور الجبرا میں فرق کیا اور الجبرا کوباقاعدہ ریاضی کی صنف کو طورپرروشناس کرایا۔

یورپ پہلی بار حساب کے اس نئے سسٹم سے بارھویں صدی میں روشناس ہوا جب برطانوی محقق رابرٹ آف چسٹر نےالخوارزمی کی شہرہ آفاق تصنیف ’’کتاب الجبر والمقابلہ‘‘ کا ترجمہ کیا۔

الخوارزمی کو متفقہ طورپردنیا بھرمیں الجبرا کا بانی سمجھا جاتا ہے اورلفظ الگوریتھم بھی ان کے نام سے کشید کیا گیا ہے۔

کیمرہ اوربصریات


علم بصریات پردنیا کی سب سے پہلی اورشاہکارتصنیف کتاب المناظرابن الہیثم نے لکھی تھی۔ کروی اورسلجمی آئینوں پرتحقیق بھی ان کا شاندار کارنامہ ہے۔ انہوں نے لینس کی میگنی فائنگ پاور کی بھی تشریح کی تھی۔ انہوں نے اپنی خراد پرآتشی شیشے اورکروی آئینے بنائے۔ حدبی عدسوں پران کی تحقیق اور تجربات سے یورپ میں ما ئیکرو سکوپ اور ٹیلی سکوپ کی ایجاد ممکن ہوئی تھی ۔ ابن الہیثم نے محراب دار شیشےپر ایک نقطہ معلوم کرنے کا طریقہ ایجادکیا جس سے عینک کے شیشے دریافت ہوئے تھے۔

ابن الہیثم نے آنکھ کے حصوں کی تشریح کے لئے ڈایا گرام بنائے اور ان کی تکنیکی اصطلاحات ایجاد کیں جیسے ریٹنا ، کیٹاریکٹ ، کورنیا جو ابھی تک مستعمل ہیں ۔ آنکھ کے بیچ میں ابھرے ہوئے حصے پتلی کو اس نے عدسہ کہا جو مسور کی دال کی شکل کا ہوتا ہے۔ لاطینی میں مسور کو لینٹل کہتے جو بعد میں لینس بن گیا۔

دنیا کا سب سے پہلا کیمرہ یعنی پن ہول کیمرہ بھی ابن الییثم کی ہی قابل فخر ایجاد ہے جس سے تصویری صنعت کا آغازہوا۔

کافی


خالد نام کا ایک عرب ایتھوپیا کے علاقہ کافہ میں ایک روزبکریاں چرارہا تھا۔ اس نے محسوس کیا کہ اس کے جانور ایک خاص قسم کی بوٹی کھانے کے بعد چاق و چوبند ہوگئے تھے۔ چنانچہ اس نے اس درخت کی بیریوں کو پانی میں ابال کردنیا کی پہلی کافی تیارکی۔ ایتھوپیا سے یہ کافی بین یمن پہنچے جہاں صوفی ازم سے وابستہ لوگ ساری ساری رات اللہ کا ذکرکرنے اور عبادت کر نے کے لئے اس کو پیتے تھے۔ پندرھویں صدی میں کافی مکہ معظمہ پہنچی، وہاں سے ترکی جہاں سے یہ 1645ء میں وینس (اٹلی) پہنچی ۔ 1650ء میں یہ انگلینڈ لائی گئی۔ لانے والا ایک ترک ’’پاسکوا روزی‘‘ تھا جس نے لندن سٹریٹ پرسب سے پہلی کافی شاپ کھولی۔ عربی کا لفظ قہوہ ترکی میں قہوے بن گیا جو اطالین میں کافے اور انگلش میں کافی بن گیا ۔

ڈپلوما


طبیبوں کی رجسٹریشن کا کام سنان ابن ثابت نے 943ء میں بغداد میں شروع کیا تھا۔ اس نے حکم دیا کہ ملک کے تمام اطباء کی گنتی کی جائے اورپھر امتحان لیا جائے۔ کامیاب ہونے والے 800 طبیبوں کو حکومت نے رجسٹر کرلیا اور پریکٹس کے لئے سرکاری سرٹیفکیٹ جاری کئے۔ مطب چلانے کے لئے لا ئسنس جاری کر نے کا نظام بھی اس نے شروع کیا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا میں ڈپلوما دینے اور رجسٹریشن کا سلسلہ شروع ہو گیا جو ابھی تک جاری ہے ۔

گھڑی


یورپ سے سات سو قبل اسلامی دنیا میں گھڑیاں عام استعمال ہوتی تھی ۔ خلیفہ ہارون الرشید نے اپنے ہم عصر فرانس کے شہنشاہ شارلیمان کو گھڑی (واٹر کلاک )تحفہ میں بھیجی تھی ۔ محمد ابن علی خراسانی (لقب الساعتی 1185ء) دیوار گھڑی بنانے کا ماہر تھا ۔ اس نے دمشق کے باب جبرون میں ایک گھڑی بنائی تھی۔

اسلامی سپین کے انجنیئرالمرادی نے ایک واٹر کلاک بنائی جس میں گئیر اور بیلنسگ کے لئے پارے کو استعمال کیا گیا تھا ۔ مصر کے ابن یونس نے گھڑی کی ساخت پر رسالہ لکھا جس میں ملٹی پل گئیر ٹرین کی وضاحت ڈایاگرام سے کی گئی تھی ۔ جرمنی میں گھڑیاں1525ء اور برطانیہ میں 1580ء میں بننا شروع ہوئی تھیں۔

جنگی ساز


سلطنتِ عثمانیہ میں مہتران یا مہترخانہ کے نام سے منسوم دفتر جنگی کے دوران جنگی ساز بجایا کرتا تھا۔ محققین کے مطابق سلطنتِ عثمانیہ وہ پہلی حکومت تھی جو کہ جنگوں کے دوران فوجی ساز کا مسلسل استعمال کرتی تھی تاآنکہ جنگ ختم نہیں ہوجائے۔

یورپ نے عثمانیوں سے جنگ کے دوران جب سازوں کو نفسیاتی اعتبار سے انتہائی کارآمد دیکھا تو انہوں نے بھی اسے اپنالیا۔

ہوابازی


امریکہ کے رائٹ برادرز سے ایک ہزار سال قبل اندلس کے ایک آسٹرونامر، میوزیشن اور انجنئیر عباس ابن فرناس نے سب سے پہلے ہوا میں اڑنے کی کوشش کی تھی ۔ ایک مؤرخ کے مطابق 852ء میں اس نے قرطبہ کی جامع مسجد کے مینار سے چھلانگ لگائی تاکہ وہ اپنے فضائی لباس کو ٹیسٹ کر سکے۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اپنے گلا ئیڈر سے پرندوں کی طرح پرواز کر سکے گا ۔875ء میں اس نے گلائیڈر سے ملتی جلتی ایک مشین بنائی جس کے ذریعہ اس نے قرطبہ کے ایک پہاڑ سے پروازکی کوشش کی۔ یہ فضائی مشین اس نے ریشم اور عقاب کے پروں سے تیارکی تھی وہ لگ بھگ دس منٹ تک ہوا میں اڑتا رہا مگراترتے وقت اس کو چوٹیں آئیں کیونکہ اس نے گلائیڈر میں اترنے کے لئے پرندوں کی طرح دم نہ بنائی تھی۔

اسپتال


دنیا کا پہلا اسپتال قاہرہ میں احمد ابن طولون کے دورِحکومت میں 872ء میں قائم کیا گیا جہاں مریضوں کو مفت طبی امداد دی جاتی تھی۔ اسپتال میں مریضوں کی تیمار داری کے لیے باقاعدہ تربیت یافتہ نرسیں اورتربیت کا شعبہ بھی تھا بعد ازاں اسی اسپتال کی طرزپربغداد اور پھردنیا بھرمیں اسپتال قائم کئے گئے۔

طب


دنیا کا سب سے عظیم حکیم اورریاضی دان بو علی الحسین ابن عبداللہ السینا تھے جنہوں نے طب کی دنیا میں انتہائی اہم ترین دریافتیں کی، طبکے موضوع پر لکھی گئی ان کی کتاب القانون صدیوں تک یورپ میں پڑھائی جاتی رہی جبکہ ادویات کے لئے ان کی تصنیف ’’الادویہ‘‘ کوطب کی دنیا میں انجیل کا سا مقام حاصل ہے۔

علم طبیعات میں ابن سینا پہلا شخص ہے جس نے تجربی علم کو سب سے معتبر سمجھا ۔ وہ پہلا طبیعات داں تھا جس نے کہا کہ روشنی کی رفتارلا محدود نہیں بلکہ اس کی ایک معین رفتارہے ۔ اس نے زہرہ سیارے کو بغیر کسی آلہ کے اپنی آنکھ سے دیکھا تھا ۔اس نے سب سے پہلے آنکھ کی فزیالوجی، اناٹومی، اور تھیوری آف ویژن بیان کی ۔
اس نے آنکھ کے اندر موجود تمام رگوں اور پٹھوں کو تفصیل سے بیان کیا ۔اس نے بتلایا کہ سمندر میں پتھر کیسے بنتے ہیں ، پہاڑ کیسے بنتے ہیں ، سمندر کے مردہ جانوروں کی ہڈیاں پتھر کیسے بنتی ہیں۔

مسلمانوں نے سائنسی میدان میں ایک ہزار سالہ انقلابی دور گزارا ہے۔ مگرافسوس پندرہویں صدی عیسوی میں اندلس سے عیسائیوں کے ذریعہ مسلمانوں کا نکالا جانا، وسط ایشیا میں تاتاریوں کے مسلسل کامیاب حملے ، ہلاکو کے ذریعہ بغداد کی تباہی ، قاہرہ کی الازھر یونیور سٹی کی لائبریریوں کا نذر آتش کرنا، مسلکی اختلافات کا پروان چڑھنا یہ وا اسباب تھے جن کی وجہ سے مسلمان زوال کا شکار ہو گئے اور ان کی سیاسی، علمی، سائنسی قوتیں مفلوج ہو کر رہ گئیں۔ ایڈورڈایٹیا نے مسلمانوں کے اس زوال کو طویل نیند سے تعبیر کیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں