The news is by your side.

Advertisement

امریکا جوہری معاہدے کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے، مغربی ممالک

واشنگٹن : امریکا کی جوہری معاہدے سے علیحدگی باوجود مغربی ممالک نے ایران کے ساتھ معاہدے پر کام کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا معاہدے کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔

تفصیلات کے مطابق چھ عالمی طاقتوں اور ایران کے مابین سنہ 2015 میں امریکی صدر باراک اوبامہ کی صدارات میں طے ہونے والا جوہری معاہدہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ روز منسوخ کرتے ہوئے صدارتی حکم نامے پر دستخط بھی کردیئے ہیں۔

امریکی صدر ٹرمل کی جانب سے ایٹمی معاہدے سے علیحدگی کے باوجود مغربی طاقتوں نے ایران کے ساتھ طے ہونے والے جوہری معاہدے پر باقی رہنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدام کو افسوس ناک قرار دیا ہے۔

ایران کے ساتھ طے ہونے والے جوہری معاہدے میں شامل مغربی ممالک جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے طے شدہ معاہدے کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔

مغربی ممالک کا کہنا تھا کہ روس اور چین مسلسل ایرانی جوہری معاہدے کی حمایت کررہے ہیں، اس لیے مغربی ممالک بھی سنہ 2015 میں طے ہونے والے معاہدے میں شامل دیگر طاقتوں کے ساتھ مل کر معاہدے پر کام کریں گے۔

ایران نے امریکا کے حالیہ اقدمات پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایٹمی معاہدہ باقی نہیں رہے گا تو ایران دوبارہ ایٹمی ہتھیار کو تیار کرنے لیے کام کرے گا۔

ایران کے صدر مولانا حسن روحانی کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ ’میں نے ملک کے وزیر خارجہ کو حکم دیا ہے کہ اگلے ہفتے چین اور روس سمیت معاہدے میں شامل دیگر مغربی ممالک سے گفت و شنید کرے‘۔

ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ’اگر معاہدے کے دیگر ممبران اپنی جگہ باقی رہتے ہیں تو معاہدے کے مقاصد ان کے تعاون سے حاصل کیے جاسکتے ہیں‘۔

واضح رہے کہ نام نہاد (جے سی پی او اے) کمیٹی نے ایران پر برسوں سے عائد اقتصادی پابندیوں میں جوہری معاہدے کے ذریعے نرمی تھی، مذکورہ کمیٹی میں اقوام متحدہ، امریکا اور یورپی ممالک شامل ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمہ نے گذشتہ روز جے سی پی او اے سے علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’مذکورہ جوہری معاہدہ خوفناک اور یکطرفہ معاہدہ تھا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ایران ریاستی دہشت گردی کی سرپرستی کرتا ہے، ایران کے ساتھ معاہدہ یکطرفہ تھا، ایران نے معاہدے کے باوجود جوہری پروگرام جاری رکھا تھا‘۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا اور اپنے اتحادیوں کو بچانے کے بجائے کہا ہے کہ ’ایرانی حکومت کو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری سے روکنے کے لیے کمزور حدود بنائی گئی تھی اور شام اور یمن سمیت پورے مشرق وسطیٰ میں ایران کے خطرناک رویوں کے لیے کوئی حدود ہی موجود نہیں ہیں‘۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’مذکورہ ایٹمی معاہدے کے مطابق ایران کو بیلسٹک میزائل کی تیاری سے روکنے کے لیے کچھ نہیں تھا اور ایران کے جورہی منصوبوں کا معائنہ کرنے کے لیے بھی کوئی خاص میکنزم موجود نہیں ہے‘۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’میں ایران پر دوبارہ اقتصادی پابندیاں عائد کررہا ہوں جو سنہ 2015 میں جوہری معاہدے کے بعد کم کردی گئی تھی‘۔

امریکی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ’ایران پر عائد کردہ اقتصادی پابندیاں فوری طور پر عائد نہیں کی جائیں گی، ایران کے ساتھ تجارت کرنے والی کمپنیوں کے پاس اپنے آپریشن بند کرنے کے لیے چھ ماہ ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’دوبارہ عائد کی گئی پابندیوں میں ایران کی مذکورہ کمپنیوں کو نشانہ بنایا جائے گا، جن میں ایرانی تیل کے شعبے، طیاروں کی برآمدات، دھاتوں کی خرید و فروخت اور ایرانی حکومت پر ڈالر کی خریداری پر بھی پابندی ہوگی۔

امریکا کے مشیر برائے قومی سلامتی جون بولٹن کا کہنا تھا کہ ’جو یورپین کمپنیاں ایران کے ساتھ تجارت کررہی ہیں وہ چھ ماہ کے اندر اندر اپنے آپریشن بند کردیں ورنہ امریکی پابندیوں کا سامنا کرنے کےلیے تیار رہیں‘۔

خیال رہے کہ اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان ہونے والے ایٹمی معاہدوں کے باعظ خطے میں ایران کی اشتعال انگیزیوں میں مزید اضافہ ہوجاتا جارہا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں