کراچی میں ’ہپناٹائز‘ کرکے لوٹنے والا گروہ سرگرم -
The news is by your side.

Advertisement

کراچی میں ’ہپناٹائز‘ کرکے لوٹنے والا گروہ سرگرم

کراچی : شہر میں ایک جانب افغانستان سے آپریٹ ہونے والے پچاس رکنی ڈکیت گروہ کی سرگرمیاں جاری ہیں تو دوسری جانب ایرانی نوسر باز گروہ بھی سرگرم ہوگیا ہے، ایرانی نوسرباز گروہ کسی بھی شخص کو سیکنڈوں میں ہپناٹائز کر کے رقم لوٹ کر فرار ہوجاتے ہیں‘ ماضی میں بھی کراچی میں ایسے گروہ سرگرم رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق گروہ کے کارندوں نے کراچی کے مختلف علاقوں میں درجنوں دکانداروں‘ بنک کیشئرز اور اسپتالوں کو ہپناٹائز کرکے رقم ہتھیائی ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ گلستان جوہر کے پرائیویٹ اسپتال میں پیش آیا ہے جہاں سے ایرانی نوسرباز 28 ہزار کی رقم لے اڑے۔

اے آر وائی نیوز نے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرلی ہے اسپتال ذرائع کے مطابق دو ایرانی نوسرباز اسپتال کے کیش کاونٹر پر پہنچے اور کیشیئر کو ایک ایرانی نوٹ دکھایا، اسی دوران کیشئیر کو پاکستانی نوٹ دکھانے کا کہا جب کیشئیر نے 100 کا نوٹ دکھایا تو اسے ہزار والے نوٹ دکھانے کو کہا۔ اسی سلسلے کے دوران کیشئیر جو کہ نظر بند ہوچکا تھا ‘ اس کے دائیں جانب کھڑےایرانی شخص نے 1000 کی گڈی ہاتھ میں لے کر کئی نوٹ اپنے بائیں ہاتھ میں نکال لیے اور کمال ہوشیاری سے اپنی جیب میں رکھ لیے، نوسربازوں کے جانے کے کئی منٹ بعد کیشئر کا سحر ٹوٹا تو اسے 28 ہزار کا چونا لگ چکا تھا۔

ذرائع کے مطابق ملزمان اسپتال سے نکل کر اسی لائن میں موجود ہر بینک میں گئے اور ہزاروں روپے لوٹے جبکہ اپنی ساکھ بچانے کے لیے اسپتال انتظامیہ اور بینکس نے بات وہیں دبادی اور مقدمہ نہیں کروایا۔

دوسری جانب گولیمار میں ٹائلز شاپ کے مالک سے جو کہ بینک میں رقم جمع کروانے آیا تھا نظر بند کر کے بینک کے اندر ہی 35 ہزار لوٹ لیے گئے۔ متاثرہ ٹائلزشاپ مالک کے مطابق ایرانی نوسرباز لسبیلہ سے ناظم آباد تک درجنوں افراد کو لوٹ چکے ہیں‘ جبکہ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ گروہ گلستان جوہر، گلشن اقبال کے علاوہ کراچی کے دیگر علاقوں میں بھی لوٹ مار کرچکا ہے۔

قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ایک افسر کے مطابق ملزمان نہ صرف کیشئیرز بلکہ بینک میں رقم جمع کروانے اور نکالنے والے شہریوں کو بھی حدف پر رکھتے ہیں، پولیس نے ایرانی گروہ کے کارندوں کی ویڈیوز اور تصاویر حاصل کرلی ہیں اور ان کی گرفتاری کے لیے سرتوڑ کوششیں جاری ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں