عراق میں خودکش حملے، 83 افراد جاں‌ بحق، 90 سے زائد زخمی iraq attack
The news is by your side.

Advertisement

عراق میں دو خودکش حملے، 83 جاں‌ بحق، 90 زخمی

ناصریہ: عراق میں دو حملوں کے باعث کم ازکم 83 افراد جاں بحق اور 90 سے زائد زخمی ہوگئے، جن میں بیشتر کی حالت تشویش ناک ہے، داعش نے حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حملے بغداد سے 200 کلومیٹر جنوب میں واقع شہر ناصریہ میں ہوئے، ایک حملہ ریسٹورنٹ اور ایک دھماکا چیک پوائنٹ پر ہوا۔

ضلعی ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ ریسٹورنٹ پر حملہ اس وقت ہوا جب زائرین دوپہر کے کھانے کے لیے ہوٹل میں موجود تھے، فوجی وردی میں ملبوس ایک دہشت گرد نے ہوٹل میں داخل ہوکر فائرنگ شروع کردی، اس وقت وہاں عراقی اور ایرانی زائرین موجود تھے جو کربلا اور نجف جارہے تھے کچھ ہی لمحے بعد ہوٹل کے نزدیک واقع چیک پوسٹ پر ایک خودکش بمبار نے ایک کار کو چوکی کے نزدیک دھماکے سے اڑا دیا۔

پولیس کرنل نے خبر رساں ادارے رائٹر کو بتایا کہ کئی مسلح افراد ریسٹورنٹ میں داخل ہوئے جنہوں نے ہینڈ گرنیڈز پھینکے اور فائرنگ کی بعدازاں ایک خودکش حملہ آور نے ریسٹورنٹ میں خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

ضلعی ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جسیم الخالدی نے بتایا کہ دونوں دھماکوں میں اب تک 83 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جب کہ زخمیوں کی بڑی تعداد علیحدہ ہے، زیادہ ہلاکتیں ریسٹورنٹ کے اندر ہوئیں۔

واشنگٹن پوسٹ سے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے جسیم الخالدی نے بتایا کہ یہ ریسٹورنٹ نجف اور کربلا جانے والے افراد میں مقبول تھا اور وہاں جانے والے یہاں وقفہ کرکے کھانا ضرور کھاتے ہیں ،یہاں ہر وقت ہجوم رہتا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 74 اور زخمیوں کی تعداد 93 ہے جب کہ بی بی سی کے مطابق ہلاکتیں 50 تک ہیں۔

پولیس اور وزاررت صحت کے مطابق حملہ اہل تشیع افراد کی جانب سے استعمال کیے جانے والے اس راستے پر ہوا جس کے ذریعے وہ مقدس مقامات کی زیارت کے لیے جاتے ہیں۔

داعش نے ذمہ داری قبول کرلی

امق نیوز ایجنسی کے مطابق داعش نے دونوں حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے آن لائن اپنا بیان جاری کردیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں