The news is by your side.

Advertisement

بغداد : مظاہرین کیخلاف سیکیورٹی فورسز کا ایکشن، 7 افراد ہلاک، متعدد زخمی

بغداد : عراق میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کو منتشر کرنے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے مزید 07 مظاہرین ہلاک جبکہ سو سے زائد زخمی ہوگئے، ہلاکتوں کی تعداد 267 سے تجاوز کرگئی۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق عراق میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں نے ایک بار پھر شدت اختیار کرلی ہے، گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران بغداد اور بصرہ میں مزید 07 افراد سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے جاں بحق ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق جاں بحق ہونے والے افراد کو دارالحکومت بغداد میں نشانہ بنایا گیا، حالیہ ہلاکتوں کے بعد اب تک مجموعی طور پر جاں بحق ہونے والے مظاہرین کی تعداد 267 سے تجاوز کرگئی۔

بغداد میں سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر آنسو گیس کی شیلنگ کی اور فائرنگ کی جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوئے جبکہ بصرہ میں سیکیورٹی فورسز کے کریک ڈاﺅن سے تین افراد جاں بحق ہوئے۔

کربلا میں بھی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین پر شدید شیلنگ کی گئی جس کے باعث مظاہرین کے متعدد خیمے جل گئے۔

طبی ذرائع کے مطابق الشہداء پُل کے نزدیک جھڑپوں میں 35 افراد زخمی ہو ئے۔ عراقی دارالحکومت میں مظاہروں اور احتجاج کا حالیہ سلسلہ کئی روز سے جاری ہے۔ اس سے قبل بغداد آپریشنز کے کمانڈر نے باور کرایا تھا کہ رشید اسٹریٹ پر مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کرنے والی فورس کو گرفتار کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ عراق کے مختلف علاقوں میں یکم اکتوبر سے حکومت مخالف مظاہروں کا آغاز ہوا جو ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتے جارہے ہیں، مظاہرین نے حکومت پر کرپشن کا الزام عائد کرتے ہوئے وزیراعظم سے فوری عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہوا ہے۔

گزشتہ دنوں عراقی صدر نے اپنے سرکاری خطاب میں ملک بھر میں نئے انتخابات کرانے کا عندیہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ وزیر اعظم عادل عبدالمحمدی عہدہ مشروط طور پر چھوڑنے کے لیے تیار ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں