The news is by your side.

مچھلی کھانا نقصان دہ ہے؟ نئی تحقیق

مچھلی کو صحت بخش خوراک کہا جاتا ہے تاہم ایک نئی تحقیق نے مچھلی کھانے کو انسانی صحت کے لیے مضر قرار دیا گیا ہے۔

مچھلی دنیا میں کھائی جانے والی سب سے زیادہ خوراک میں سے ایک ہے اور اس کو صحت کے لیے عمومی طور پر مفید قرار دیا جاتا ہے خاص طور پر دل کے امراض میں اس کا استعمال فائدہ مند

بتایا جاتا ہے تاہم اب ایک نئی تحقیق نے مچھلی کے صحت بخش ہونے پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکا میں ہوئی اس تحقیق میں انوائرمنٹل ورکنگ گروپ (ای ڈبلیو جی) کے محققین نے امریکا بھر سے میٹھے پانی کے ذخیروں سے پکڑی جانے والی مچھلیوں کے گوشت کے 500 نمونوں کا تجزیہ کیا اور ان تجزیوں سے اپنی تحقیق کا یہ نچوڑ نکالا کہ سال میں میٹھے پانی کی ایک مچھلی کھانا اتنا ہی نقصان دہ ہے جتنا کہ ایک ماہ تک ’فار ایور کیمیکلز‘ سے آلودہ پانی پینا۔

تحقیق میں پتہ چلا کہ مچھلیوں میں پی ایف ایز کی اوسط مقدار 9500 نینو گرام فی کلوگرام تھی لیکن سُپیریئر، مشیگن، ہیورن جیسی بڑی جھیلوں سے پکڑی جانے والی مچھلیوں میں یہ مقدار بڑھ کر 11 ہزار 800 نینو گرام فی کلو گرام تک پہنچ گئی تھی۔

تجزیے میں یہ تخمینہ لگایا گیا کہ ان کیمیکلز سے آلودہ مچھلیوں کو کھانا ایک مہینے تک پی ایف ایز سے آلودہ (48 حصے فی 10 کھرب) پانی پینے کے برابر ہے۔ پی ایف ایز کی یہ مقدار کمرشلی طور پر پکڑ کر فروخت کی جانے والی مچھلیوں میں پائی جانے والی مقدار کی نسبت 280 گُنا زیادہ ہے۔

ای ڈبلیو جی کے سینئر سائنس دان اور تحقیق کے سربراہ مصنف ڈاکٹر ڈیوڈ اینڈریو کے مطابق وہ لوگ جو میٹھے پانی کی مچھلی کھاتے ہیں بالخصوص وہ لوگ جو باقاعدگی سے مچھلی پکڑتے ہیں اور کھاتے ہیں، ان کے جسم میں خطرناک حد تک پی ایف ایز کی موجودگی کا خدشہ ہے۔

واضح رہے کہ پرفلورو الکائل اور پولی فلورو الکائل(پی ایف ایز) مرکبات المعروف ’فار ایور کیمیکلز‘ کئی صورتوں میں ہماری روز مرہ زندگی کا حصہ ہوتے ہیں۔ ہمارے اردگرد پی ایف ایز تقریباً 12 ہزار صورتوں میں موجود ہیں جن کے فائر فائیٹنگ فوم، فرائی پان پر کی جانے والی نان اسٹکنگ کوٹنگ اور ٹیکسٹائل سمیت کئی استعمال ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مرکبات کینسر اور دیگر صحت کے مسائل سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں