تازہ ترین

اسرائیل نے حماس کی پیشکش مسترد کر دی

اسرائیلی وزیر اعظم نے حماس کی جنگ بندی کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے رفح جارحیت کو جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔

ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق نیتن یاہو نے حماس کی جنگ بندی کی تازہ ترین تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اسے "مضحکہ خیز” قرار دیا ہے۔

اسرائیل کی جنگی کابینہ کے اجلاس کے بعد جاری کردہ ان کے دفتر کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج غزہ کے جنوبی ضلع رفح پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہی ہے جہاں تقریباً 1.5 ملین فلسطینی ہیں جن میں سے زیادہ تر بے گھر ہو چکے ہیں اب پناہ گزین ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ "[اسرائیلی فوج] آپریشن کے لیے اور [شہری] آبادی کو نکالنے کے لیے تیار ہے۔

حماس نے تین مرحلوں میں جنگ بندی کی تجویز پیش کر دی۔ حماس کے ذرائع نے الجزیرہ کو بتایا کہ تین مرحلوں پر مشتمل جنگ بندی کی تجویز پیش کی گئی ہے جس میں امداد کی فراہمی اور بے گھر فلسطینیوں کو ان کے گھروں میں واپس بھیجنا شامل ہے۔

تینوں مراحل میں سے ہر ایک 42 دن تک جاری رہے گا۔ پہلے مرحلے میں، اسرائیلی افواج وسطی غزہ میں غزہ سٹی کے قریب صلاح الدین اسٹریٹ سے آگے پیچھے ہٹیں گی تاکہ بے گھر ہونے والے کچھ لوگوں کو گھروں کو لوٹنے کے قابل بنایا جا سکے۔

حماس اسرائیل کی طرف سے رہا کیے گئے ہر 50 فلسطینی قیدیوں کے بدلے غزہ میں قید ایک خاتون اسرائیلی ریزروسٹ کو رہا کرے گی۔

دوسرا مرحلہ ایک مستقل جنگ بندی پر مشتمل ہو گا جس کا اعلان حماس کی طرف سے کسی بھی اسیر اسرائیلی فوجی کو رہا کرنے سے پہلے کیا جائے گا۔

Comments

- Advertisement -