The news is by your side.

Advertisement

J10-C:اپنے دفاع کو مستحکم بناتا پاکستان!

فہمیدہ یوسفی کے قلم سے!

دنیا کی نظریں اس وقت روس اور یوکرین کی جنگ پر لگی ہوئی ہیں، جہاں ایک کم زور ملک انتہائی طاقت وَر ریاست سے مقابلے کے لیے دنیا سے دفاعی امداد کا مطالبہ کررہا ہے۔ آخری خبریں آنے تک یوکرین کی فوج اور عوام اپنے محدود وسائل کے ساتھ یہ جنگ لڑ تو رہے ہیں، لیکن وہ کب تک روسی فوج کے سامنے ڈٹے رہیں‌ اور جنگ کا کیا نتیجہ نکلے گا، یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

یوکرین کبھی روس کا ہی حصّہ تھا۔ 1919ء میں ایک معاہدے کے تحت روس میں شامل ہوا اور 1991ء میں سوویت یونین کے ٹوٹنے پر یوکرین بھی الگ ہو گیا۔ روس ہمیشہ سے یہ چاہتا تھا کہ یوکرین کی خارجہ پالیسی خطّے میں اس کے مفادات کا تحفظ کرے اور یہ ملک روس کے "ڈکٹییشن” پر چلے۔ یوکرین کی اسٹریٹجک پوزیشن روس کے لیے بے حد اہمیت رکھتی ہے اور اس ملک پر قبضہ کئی اعتبار سے سود مند ثابت ہوسکتا ہے۔ یوکرین پر غلبے کا مطلب روس کی دیگر اہم مشرقی یورپی ممالک تک رسائی ہے۔

جے ٹین سی

روس کے لیے یوکرین اقتصادی طور پر بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے، کیوں کہ یوکرین کی زرعی اراضی پر بالخصوص گندم اور مکئی کی شان دار فصلیں تیّار ہوتی ہیں اور یہاں بے شمار معدنی ذخائر بھی موجود ہیں۔ یہی نہیں، ایک اندازے کے مطابق یورپی ممالک کی 40 فی صد گیس روس سے یوکرین کے ذریعے سپلائی کی جاتی ہے۔ یعنی یوکرین، روس کی راہداری کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے روس کسی بھی قیمت پر یوکرین کو نیٹو اتحاد کا حصّہ بنتے نہیں دیکھ سکتا جس سے روس کے لیے دفاعی خدشات بڑھ جاتے ہیں۔

دوسری جانب یوکرین کی شدید خواہش رہی کہ وہ ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر نیٹو ممالک کا حصّہ بن جائے اور اسے روس کا اثر اور ڈکٹیشن نہ لینا پڑے۔ جب کہ روس سے علیحدگی کے وقت یوکرین ایٹمی طاقت بھی تھا۔ نیٹو اتحادی ممالک نے یوکرین کو سبز باغ دکھایا کہ اگر وہ اپنا ایٹمی پروگرام رول بیک کر دیتا ہے تو اسے یورپ کے ایک پُرامن ملک کے طور پر خوش آمدید کہا جائے گا اور اس بات کی یقین دہانی بھی کروائی کہ نیٹو اتحاد کسی بھی ملک کی جانب سے یوکرین کے خلاف جارحیت اور فوجی کارروائی کی صورت میں اس کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ ‏یوکرین نے اس جھانسے میں آکر اپنا ایٹمی پروگرام رول بیک کردیا، لیکن اتنے عرصے بعد بھی نہ ہی وہ یورپی یونین کا حصّہ بنا اور نہ ہی نیٹو کا کوئی اتحادی جنگ میں ان کی براہِ راست مدد کرسکتا ہے۔

اب اسی پس منظر میں ذرا نظر ڈالتے ہیں ایشیا پر جہاں ایک طاقت پر خطّے میں "چوہدری” بننے کا اس قدر جنون سوار ہے کہ وہ اندھا دھند اپنے تمام وسائل دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے میں لگا رہا ہے اور اس کا نشانہ اس سے چار گنا چھوٹی طاقت ہے جس کے ناقابلِ تسخیر دفاع کے آگے وہ ہر بار منہ کی کھاتا ہے۔ میں بھارت اور پاکستان کی بات کررہی ہوں۔ آج جدید دنیا میں یہ تصوّر کیا جاتا ہے کہ جو ملک بہترین دفاعی صلاحیتوں کا حامل ہو گا، اس کی سرحدیں اتنی ہی زیادہ محفوظ ہوں گی اور دشمن کے لیے انھیں عبور کرنا مشکل تر ثابت ہوگا۔

بھارت کی نظریں ہر وقت پاکستان کی جانب لگی رہتی ہیں۔ وہ ایسے موقع کی تلاش میں‌ رہتا ہے جب اپنے ناپاک اداروں کی تکمیل کرسکے، لیکن وہ یہ بھی جانتا ہے کہ افواجِ پاکستان اس کی ہر سازش کو ناکام بنانے کے لیے ہمہ وقت مستعد اور نگران ہیں اور کوئی بھی کارروائی اسے منہگی پڑ سکتی ہے۔

حالیہ چند مہینوں کے دوران بھارت نے پنجاب سیکٹر میں روسی ساختہ ایئر ڈیفنس سسٹم “ایس 400” کی پاکستان سے ملحقہ سرحدوں پر تنصیب کا عمل شروع کیا جو خطّے میں بھارت کے جنگی جنون اور اس کے توسیع پسندانہ عزائم کو واضح کرتی ہے۔ یہی نہیں بھارتی فضائیہ میں رفال کا شامل کیا جانا بھی اس حقیقت کی غمازی کرتا ہے کہ بھارت خطّے میں‌ امن کو برباد کردینا چاہتا ہے۔

دسمبر 2021ء میں پاکستان کے وزیرِ داخلہ شیخ رشید نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ انڈیا کے رفال طیارے کے توڑ کے طور پر 23 مارچ کو پاکستان کا جے ٹین (J-10) فلائی پاسٹ کرے گا۔ وزیرِ داخلہ کے بیان کے بعد پاکستان اور بھارت کے دفاعی حلقوں میں یہ بحث چھڑ گئی کہ اسلام آباد یہ لڑاکا طیّارے خرید رہا ہے یا پریڈ کے موقع پر ان کی شرکت اس کی کسی نئی حکمتِ عملی کا حصّہ ہے۔

معروف دفاعی تجزیہ کار میجر(ر) فواد سے اس سلسلے میں‌ بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ہماری آرمڈ فورسز کا انحصار زیادہ تر امریکا اور ان کے اتحادیوں کے ہتھیاروں اور اسلحے پر ہی تھا اور امریکی پابندیوں کے بعد ہمیں اس جنگی ساز و سامان کے اسپیئر پارٹس کے لیے مشکلات کا سامنا رہا۔ اس کی ایک مثال ایف سولہ کے حصول کا معاملہ ہے تاہم اب ہماری دفاعی ترجیحات مخلتف ہیں۔ ہم اب کسی ایک ملک پر انحصار نہیں کرتے، ہم اب دفاعی ٹیکنالوجی میں بھی خود کفیل ہوتے جارہے ہیں اور دنیا کے دوسرے ممالک کو اپنی ٹیکنالوجی فروخت بھی کر رہے ہیں۔

جے ٹین (J-10) کو رفال کا ہم پلّہ مانا جاتا ہے اور اس کی شمولیت سے ہماری فضائیہ کی دفاعی قوّت بہت زیادہ مضبوط ہوجائے گی۔ فلائی پاسٹ میں جے ٹین سی شامل ہوں گے اور امید کی جارہی ہے کہ ہم دو اسکوارڈن شامل کرنے جارہے ہیں جس میں سے پہلا اس سال کے آخر تک ہماری فضاؤں میں‌ اڑان بھر سکے گا۔ کوشش یہ ہے کہ فائٹر جیٹ ہمارے اتحادی ممالک سے ہی ہوں اور ہمیں ان کے اسپیئر پارٹس کے لیے کسی پر انحصار نہ کرنا پڑے۔آگے چل کر ہوسکتا ہے کہ ہم روس کے ساتھ بھی بعض معاہدوں کی طرف جائیں اور کسی بھی ایک ملک پر انحصار نہ کریں۔ بھارت جانتا ہے کہ ہمارا دفاعی نظام بہت مضبوط ہے جس کا عملی مظاہرہ بھارتی فضائیہ 27 فروری کو دیکھ چکی ہے۔ ہماری نیشنل سیکیورٹی پالیسی منظرِ عام پر آگئی ہے اور ہم اب بھارت سے آگے کی بات کررہے ہیں۔ ہم اپنے ریجنل ہولڈ کی بات کر رہے ہیں، ہم سینٹرل ایشیا میں اپنے فٹ پرنٹس کی بات کررہے ہیں۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ جے ٹین لڑاکا طیارے سمندری یا آبی سرحدوں کے دفاع کے ساتھ ساتھ مجموعی کارکردگی کو بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اس سے قبل، بعض رپورٹوں سے یہ اشارہ ملا تھا کہ پاکستان چین سے جے ٹین سی 36 سیمی اسٹیلتھ 4.5 جنریشن طیارے خریدے گا، لیکن دونوں ممالک کی جانب سے اس کی تصدیق نہیں کی گئی تھی۔ قیاس آرائیاں زوروں پر تھیں کہ وزیرِ داخلہ کا بیان بھارت کے رفال لڑاکا طیّاروں کے جواب میں جے ٹین سی کی خریداری کا اشارہ ہے اور دوسری جانب اس پر دفاعی حلقوں کی معنی خیز خاموشی نے بھارت کی بے چینی اور اضطراب کو بڑھا دیا۔

شیخ رشید نے ایک بار پھر کہا کہ اس سال پریڈ میں جے ٹین طیّاروں کا فلائی پاسٹ پاکستان کی دفاعی ڈپلومیسی کی کام یابی کا پیغام ہوگا اور پھر پاکستانی حکومت نے اعلان کیا کہ چینی لڑاکا طیّارے یوم پاکستان کی پریڈ میں شرکت کریں گے جس کے بعد بین الاقوامی سطح پر میڈیا میں یہ بحث چھڑ گئی کہ رفال یا جے ٹین، کون سا لڑاکا طیّارہ ان میں‌ برتر ہے۔

جے ٹین سی

جے ٹین سی اور رفال کا موازنہ

جے ٹین سی ایک ملٹی رول سنگل انجن طیّارہ ہے جسے چین کی طیّارہ ساز کمپنی Chengdu Aircraft industry group نے تیّار کیا ہے۔ اس کی آزمائشی پرواز 1998ء میں کی گئی جب کہ 2005ء میں اسے چینی فضائیہ میں شامل کرلیا گیا۔ رفال کے مقابلے میں جے ٹین ایک ہلکا اور کم لاگت کا حامل طیّارہ ہے۔ یہ فورتھ جنریشن طیّارہ ہے۔

بھارتی رفال فرانسیسی ساختہ ہے جسے ڈیزل گروپ نے بنایا ہے۔ یہ ملٹی رول ففتھ جنریشن طیّارہ ہے اور ان کا موازنہ کرتے ہوئے جے ٹین سی کو دیکھا جائے تو اس کی لمبائی 10.03 میٹر، اس کے پَروں کا پھیلاؤ 9.25 میٹر، اونچائی 5.43 میٹر ہے۔ اس کا گراس ویٹ 14000 کلو گرام ہے۔

رفال کی بات کریں تو اس کی لمبائی 15.27 میٹر اور اونچائی 5.34 میٹر ہے۔ اس کے پروں کا پھیلاؤ 10.25 میٹر اور گراس ویٹ 9 ہزار 850 کلو گرام ہے۔ اس کا ٹیک آف ویٹ 24500 کلو گرام ہے۔

جے ٹین سی میں روسی ساختہ AL-3INF انجن لگا ہوا ہے جو اسے 12500 ibf تھرسٹ پاور مہیا کرتا ہے جب کہ جے ٹین سی میں WS-10 روسی انجن والے طیّارے ہیں، یہ نیوٹن کا تھرسٹ آفٹر برن طیّارے کو مہیا کرتا ہے۔

رفال کو (Two Sncema) M 88 انجن آفٹر برن 17000 ibf تھرسٹ پاور مہیا کرتا ہے، یعنی دونوں کے انجن طیّارے کو 34000 آئی بی ایف تھرسٹ پاور مہیّا کرتے ہیں۔ جے ٹین سی کی زیادہ سے زیادہ اسپیڈ 1.8 میک ہے، کامبیٹ رینج 1250 کلومیٹر اور سروس سیلنگ 56 ہزار فٹ ہے۔ رفال کی زیادہ سے زیادہ اسپیڈ 1.8 میک ہے۔

جے ٹین سی طیّارہ میں (KLT10 AESA) ریڈار لگا ہوا ہے جس کی رینج 250 کلو میٹر ہے۔ کہا جارہا ہے کہ پا کستان ان طیاروں میں اپنے رعد میزائل بھی استعمال کرسکتا ہے جن کی رینج 600 کلو میٹر ہے۔ جے ٹین کا ٹرن ریٹ 30 ڈگری فی سکینڈ ہے جب کہ رول ریٹ 300 پلس ڈگری فی سکینڈ ہے۔

رفال طیّارے کا پے لوڈ 8000 کلو گرام ہے جب کہ جے ٹین کا پے لوڈ 6000 ہزار کلو گرام ہے۔ رفال طیارے کی رفتار 2223 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے اور جے ٹین طیّارے کی رفتار 2000 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ تاہم رفال کا spectra avionics system طیارے کو زیادہ جدید بنا دیتا ہے۔ ایمبونیشن صلاحیت میں جے سی ٹین میں چینی ساختہ ریڈار سسٹم نصب ہے، چینی ساختہ لیزر گائیڈیڈ بم، 3PL-8 میزائل،P-11 اور P-12 میزائل، BBR لیزر گائیڈ میزائل جن کی رینج 100 سے 200 کلومیٹر ہے، اس میں A23 mm کی گن جب کہ C-80 سالڈ راکٹ، اینٹی شپ میزائل YJ-8k جب کہ PL-8 انفرا ریڈ شارٹ رینج میزائل اور ایئر ٹو ایئر میزائل بھی اس طیّارے میں نصب ہیں، اس کا ٹیک آف کرتے ہوئے وزن 19277 کلو گرام ہے، اس کے پروں میں (1770 گیلن) اضافی فیول ٹینک لگنے سے اس کی پرواز صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔

دوسری جانب کچھ عرصہ قبل ہی پاکستان نیوی کے بحری بیڑے میں جدید ترین جنگی ٹیکنالوجی سے لیس پی این طغرل کلاس فریگیٹس شامل ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ جنگی جہاز خطّے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے اور بھارت کی جارحیت کا جواب دینے کے لیے پاکستانی بحریہ کی صلاحیت کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

تو کیا پاکستانی نیول آپریشنز کے لیے جے ٹین سی کا استعمال کیا جاسکتا ہے؟

جے ٹین سی میڈیم ویٹ فائٹر کومبیٹ ایئر کرافٹ ہے اور سنگل انجن طیّارہ ہے جو تمام موسمی حالات میں پرواز کرسکتا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق J-10 طیارہ میری ٹائم سیکیورٹی کے حوالے سے بھی انتہائی اہم ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جے ٹین طیّارے جہاز کو تباہ کرنے والے میزائلوں سے لیس ہیں اور اس طرح یہ سمندروں کے محافظ ثابت ہو سکتے ہیں، خاص طور پر اس صورت میں جب پاکستان بحیرۂ عرب میں اپنی نقل و حرکت کو بڑھا رہا ہے۔

پاکستانی فضائیہ اپنے میراج طیاروں کے بیڑے کو تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور چینی ساختہ جے ٹین لڑاکا طیّارے ممکنہ طور پر فضائیہ کے ساتھ ساتھ بحریہ کے لیے بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ جے ٹین اے نے 2019ء میں یومِ پاکستان کے موقع پر پہلی بار پریڈ کا حصّہ بنے تھے۔ اس وقت چھے طیاروں کی فارمیشن کو چینی ہوا بازوں نے اڑایا تھا۔ سال 2019ء ہی سے کہا جارہا تھا کہ پاکستان جے ٹین طیّارے خریدے گا۔

جب یوکرین سے جوہری پروگرام کو رول بیک کرنے کے لیے کہا جارہا تھا، اسی عرصے میں پاکستان پر بھی یہ پریشر تھا کہ وہ اپنا جوہری منصوبہ رول بیک کر دے، لیکن پاکستان اس پر کسی کی بات نہیں سنی اور ہر قسم کے دباؤ کو مسترد کردیا تھا۔

آج جب روس نے یوکرین پر حملہ کیا ہے تو کوئی بھی نیٹو ملک سرحدوں کے دفاع کے لیے یوکرین کے ساتھ کھڑا نہیں‌ ہوا ہے اور صرف روس کے خلاف مذمتی بیانات، اس پر پابندیاں عائد کیے جانے اور یوکرینی عوام سے ہمدردی پر اکتفا کیا جارہا ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ یوکرین اگر ایک جوہری طاقت ہوتا تو شاید روس کے لیے حملہ کرنا آسان نہ ہوتا اور اسے سوچنا پڑتا۔ پاکستان وہ ملک ہے جو عالمی سطح پر رونما ہونے والی سیاسی اور معاشی تبدیلیوں پر نظر رکھتے ہوئے خطّے میں‌ بڑی طاقتوں کے مفادات اور ان کی پالیسیوں‌ کو بھی سمجھتا ہے۔ پاکستان امن اور ترقّی کے خواہاں ہے، جس کے لیے خطّے میں طاقت کا توازن قائم رکھنا ضروری ہے اور پاکستان اس طرف سے کبھی غافل نہیں رہا۔

23 مارچ کو جب وطنِ عزیز کی فضاؤں میں جے ٹین سی اڑان بھریں‌ گے تو یہ ایک خاموش پیغام بھی ہوگا کہ ہم خوب جانتے ہیں کہ کوئی کسی کی جنگ نہیں لڑتا، اپنی جنگ خود لڑنا پڑتی ہے اور یہ سبق ہم نے دنیا کی تاریخ سے سیکھا ہے۔

فہمیدہ یوسفی زیادہ تر عالمی و علاقائی سیاسی صورتِ حال، عسکری اور دفاعی امور پر لکھتی ہیں اور انسانی حقوق، ماحولیات اور صحت سے متعلق مسائل بھی ان کاموضوع ہیں۔آر جے کی حیثیت سے ایک ایف ایم ریڈیوچینل سے وابستگی کےعلاوہ وہ ایک ویب سائٹ کی مدیر بھی ہیں۔ بلاگر سے ان کے ٹویٹر اکاؤنٹ @fahmidahyousfi پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں