The news is by your side.

فلسطینی صحافی کا قتل جان بوجھ کر کیا گیا، مشترکہ تحقیقات

الجزیرہ کی مقتول صحافی شیرین ابوعاقلہ کی موت کی وجہ جاننے کے لیے مشترکہ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ خاتون کو اسرائیلی فورسز کی جانب سے جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔

لندن میں قائم کثیر الثباتاتی تحقیقی گروپ اور فلسطینی حقوق کے گروپ کی مشترکہ تحقیقات میں مزید شواہد سامنے آئے ہیں جو اسرائیل کے اس بیان کی تردید کرتے ہیں کہ الجزیرہ کی تجربہ کار صحافی شیرین ابو اکلیح کا قتل ایک غلطی تھی۔

فرانزک آرکیٹیکچر الحق کا کہنا ہے کہ ابوعاقلہ کا قتل جان بوجھ کر کیا گیا۔ تحقیقات میں اسرائیلی اسنائپر کے زاویے کا جائزہ لیا گیا جس میں یہ نتیجہ نکلا کہ اسنائپر واضح طور پر بتانے کے قابل تھا کہ علاقے میں صحافی موجود ہیں۔

امکان ہے فلسطینی صحافی کی موت فوجی کی فائرنگ سے ہوئی، اسرائیلی رپورٹ

تحقیقات کے لیے الجزیرہ نے مواد فراہم کیا جس پر نتجہ اخذ کیا گیا کہ اسرائیلی اسنائپر نے دو منٹ تک گولیاں چلائیں اور جان بوجھ کر ابوعاقلہ کو بچانے کی کوشش کرنے والوں کو نشانہ بنایا۔

اسنائپر نے تین بار گولیاں چلائیں، پہلی بار چھ گولیاں پھر آٹھ سیکنڈ کے بعد سات اور گولیاں چلائیں۔ ان میں سے ایک گولی وہ تھی جو مقتول کے ہیلمٹ کے نیچے لگی۔ دو منٹ بعد اسنائپر نے اسے بچانے کی کوششوں کو روکنے کے لیے مزید تین گولیاں چلائیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں