The news is by your side.

Advertisement

ہیما سے لتا تک کا سفر: لتا منگیشکر کی زندگی سے چند لفظی جھلکیاں!

سروں کی ملکہ لتا منگیشکر کرونا سے پیدا ہونے والے طبی مسائل کا شکار ہوکر 92 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں، ان کی زندگی کے سفر کی چند جھلکیاں ریحان عابدی پیش کررہے ہیں۔

بولی وڈ میں چھ دہائیوں سے اپنی بے مثال اور جادوئی آواز میں 20 سے بھی زائد زبانوں اور 30 ہزار سے بھی زیادہ نغموں کو اپنی آواز دے کر گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں نام درج کرانے والی موسیقی کی دیوی لتا منگیشکر نے 28 ستمبر 1929 کو اندور میں آنکھ کھولی اور موسیقی کی دنیا میں قدم رکھنے تک غربت کے اندھیروں میں زندگی گزاری۔

گلوکار و اداکار دینا ناتھ منگیشکر کے گھر ہیما ہریکدر نامی لڑکی نے جنم لیا جسے 1948 کے بعد سے دنیا نے لتا منگیشکر کے نام سے جانا۔

بشکریہ گوگل

تین بہنیں، ایک بھائی اور ماں کے ساتھ گھر میں غربت نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ 1942 میں ماسٹر دینا ناتھ چل بسے تو گھر میں غربت نے ڈیرے ڈال دئیے اور تین بہنیں، ایک بھائی اور ماں کی ذمہ داری 13 سالہ بچی کے کندھے پر آ پڑی۔

لتا نے پیٹ کی آگ بجھانے کےلیے فلمی دنیا کا رخ لیا لیکن میک اپ کی ملمع سازی اور سیٹ کی ہنگامہ خیزی سے بچی کا دل کٹتا رہتا اور وہ رات گئے گھر پہنچتی تو پھوٹ پھوٹ کر روتی اور اگلے دن بھوک کی آگ دوبارہ فلمی دنیا کی آگ میں دھکیل دیتی۔

گلوکاری کا آغاز و عروج :

زندگی یوں ہی جاری تھی کہ 1948 میں میوزک ڈائریکٹر ماسٹر غلام حیدر نے لتا کے سر پر ہاتھ رکھا اور 1948 میں ایس مکھرجی کی فلم (شہید) میں گانے کےلیے لتا کو متعارف کرایا مگر ایس مکھرجی نے یہ کہہ کر منع کردیا کہ لتا کی آواز بہت زیادہ پتلی ہے، جس پر غلام حیدر نے کہا کہ مستقبل میں ڈائریکٹر اور پروڈیوسرز لتا کے پاؤں پڑے گے بھیک مانگیں گے’۔

فلم شہید میں انکار کے بعد غلام حیدر کی کاوشوں سے فلم مجبور میں لتا کی آواز شامل ہوئی۔

Remembering Master Ghulam Haider
بشکریہ گوگل

کمال امرہوی کی فلم محل(1949) ان دنوں بننے کے مرحلے میں تھی کہ ایک دن اس کے موسیقار کھیم چند پرکاش نے کُم کُم کے نام سے مشہور اداکار اُمّہ دیوی کو ایک گیت کی پیشکش کی لیکن انہوں نے انکار کردیا جس کے بعد گیت نوآموز لتا کو مل گیا اور اس گیت نے بھارتی سینما کی تاریخ بدل کے رکھ دی۔

اس کے بعد لتا نے 1960 میں مغل اعظم، 1970 میں فلم برسات، 1973 میں فلم بوبی، 1985 کی فلم سنجوگ، ہو یا پھر شاہ رخ خان کی فلم ویر زارا ہو، جب بھی ٹاپ ہٹ گانوں کی فہرست بنائی جاتی تو پہلے پانچ گانے لتا منگیشکر کے ہی نکلتے۔

ایوارڈز و اعزازات :

لتا کو بھارتی حکومت نے سنہ 2001 میں بھارت کا اعلیٰ ترین ایوارڈ ‘بھارت رتن’ سے نوازا اس کے علاوہ آپ کو 1969 پدما بھوشن، 1989 داداصاحب پھالکے، 1997 مہاراشٹرا بھوشن، 1999 پدما وبھوشن، 2006 لائجن آف آنر بھی دئیے گئے۔

بشکریہ گوگل

حکومت کی جانب سے دئیے جانے والے اعزازات کے علاوہ نیشنل فلم ایوارڈ، بی ایف جے اے ایوارڈ، فلم فیئر ایوارڈ، فلم فیئر اسپیشل ایوارڈ، فلم فیئر لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ اپنے نام کیے۔

لتا اور نور جہاں کی واہگہ سرحد پر ملاقات :

لتا منگیشکر اور نور جہاں کے درمیان بہت گہری دوستی تھا لیکن برصغیر کا بٹوارا ہوا تو نور جہاں پاکستان آگئیں اور لتا بھارت میں ہی رہ گئیں۔

سنہ 1952 میں جب ایک بار لتا امرتسر گئیں تو ان کا دل چاہا کہ نور جہاں سے ملاقات کی جائے جو کہ صرف دو گھنٹے کی دوری پر لاہور میں رہتی تھیں۔

لتا نے نور جہاں کو فون کیا اور ایک گھنٹے تک بات ہوتی رہی جس کے بعد میں دونوں نے واہگہ بارڈر پر ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا۔

How Lata Mangeshkar and Noorjehan got together
بشکریہ گوگل

مشہور موسیقار سی رامچندرن اپنی سوانح حیات میں لکھتے ہیں کہ میں نے اپنے تعلقات کا استعمال کر کے یہ ملاقات اس جگہ کروائی جسے فوج کی زبان میں ’نو مین لینڈ‘ کہا جاتا ہے۔

جیسے ہی نورجہاں نے لتا کو دیکھا، وہ دوڑتی ہوئی آئیں اور لتا کو زور سے گلے لگا لیا اور دونوں کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، ہم لوگ بھی نور جہاں اور لتا منگیشکر کی جذباتی ملاقات دیکھ کر اپنے آنسو نہیں روک پائے، یہاں تک کہ دونوں طرف کے فوجی بھی رونے لگے۔

سروں کی ملکہ لتا منگیشکر چل بسیں

بھارتی عوام اور لتا سے محبت :

بھارت میں آج بھی لتا منگیشکر کو پرستش کی حد تک پیار کیا جاتا ہے اور بہت سے لوگ ان کی آواز کو بھگوان کا سب سے بڑا تحفہ مانتے ہیں۔

دن ڈھلے جہاں رات پاس ہو
زندگی کی لو اونچی کر چلو
یاد آئے گر کبھی، جی اداس ہو
میری آواز ہی پہچان ہے گر یاد رہے

Comments

یہ بھی پڑھیں