The news is by your side.

Advertisement

بیدی کی شگفتہ بیانی

اردو کے مختلف ادیبوں اور مشہور شعرا کے حالاتِ زندگی کے ساتھ ہمیں‌ ادبی تذکروں‌ میں ان کی ادبی مجالس اور نشستوں کا احوال بھی پڑھنے کو ملتا ہے، اور روداد نویسوں نے ان ادبی شخصیات سے متعلق مختلف سنجیدہ اور بعض دل چسپ واقعات بھی رقم کیے ہیں۔

ہم اکثر ادبی تذکروں‌ میں مشہور شعرا سے متعلق لطائف پڑھتے رہتے ہیں جو ان کی شگفتہ مزاجی، بذلہ سنجی اور ظرافت کے ساتھ ان کی علمیت اور حاضر دماغی کا ثبوت ہیں۔

کنور مہندر سنگھ بیدی جن کا تخلص سحر تھا، ہندوستان کے مشہور شعرا میں سے ایک ہیں۔ ایک مشاعرے میں‌ ان کی نظامت سے متعلق تذکرہ کچھ یوں‌ کیا گیا ہے۔ چیمسفورڈ کلب میں‌ منعقدہ مشاعرہ میں سینئر اور مشہور شعرائے کرام مدعو تھے اور نظامت کے فرائض بیدی صاحب انجام دے رہے تھے۔

ایک شاعر اپنا کلام سنا چکے تو کنور صاحب نے عرش ملسیانی کو دعوت دی۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھے اور مائیک اٹھانے کے لیے بڑھے تو بیدی صاحب کی آواز شرکا اور سامعین کی سماعتوں سے ٹکرائی۔ انھوں نے مدعو شاعر کے نام کی رعایت سے شعر پڑھ دیا اور داد سمیٹی۔ شعر یہ تھا۔

عرش کو فرش پر بٹھاتا ہوں
معجزہ آپ کو دکھاتا ہوں

اسی مشاعرے کے دوران ایک اور شاعر کو دعوتِ کلام دینے پہلے سامعین سے مخاطب ہوئے اور شاعر کا تعارف کچھ اس طرح‌ کروایا۔

کیا ستم ظریفی ہے کہ اب میں ایک ایسے شاعر کو مدعو کررہا ہوں جو ہر طرف سے گھرا ہوا ہے اور قافیہ ردیف کا بھی پابند ہے۔ اس پر ستم یہ کہ سرکاری ملازم بھی ہے اور تخلص ہے ’آزاد۔‘ اس پر معروف شاعر جگن ناتھ آزاد مسکرائے، اپنی نشست سے اٹھے اور کلام پیش کرنے کے لیے مائیک تھام لیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں