The news is by your side.

Advertisement

سن2060 تک کراچی، بدین، سجاول اور ٹھٹھہ سمندربرد ہوجائیں گے

کراچی : دریائے سندھ میں پانی کی شدیدقلت نے ٹھٹھہ بدین اورکراچی کیلئے خطرے کی گھنٹی بجادی، ماہرین کا کہنا ہے کہ کوٹری ڈاؤن اسٹریم میں پانی نہ چھوڑا گیا تو سن2060  تک کراچی، بدین، سجاول اور ٹھٹھہ سمندربرد ہوجائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق دریائےسندھ میں پانی کی شدیدقلت نے ٹھٹھہ ، بدین اور کراچی کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی، سمندر لگ بھگ تین سال میں پینتیس لاکھ ایکڑزمین نگل گیا ہے۔

دریائے سندھ میں پانی میں مسلسل کمی کے باعث کوٹری ڈاؤن اسٹریم میں پانی نہ ہونے کے برابر چھوڑا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے سمندر کی دریائے سندھ کی جانب تیزی سے پیش قدمی جاری ہے۔

سمندری پانی دریامیں شامل ہونے سے آبی حیات کو شدیدخطرات لاحق ہوگئے ہیں۔

آبی ماہرین نے خدشہ ظاہرکیا ہے صورتحال برقرار رہی اورکوٹری ڈاؤن اسٹریم میں پانی نہ چھوڑاگیا تو دو ہزار ساٹھ تک کراچی، بدین، سجاول اور ٹھٹھہ سمندربرد ہوجائیں گے۔


مزید پڑھیں : سندھ ٹھٹھہ، بدین 2050 اور کراچی کا 2060 تک ڈوبنے کا امکان


یاد رہے 2015 میں نیشنل انسٹیٹوٹ آف اوشین وگرافی نے سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے سائنس اور ٹیکنالوجی کو بتایا تھا کہ سمندر کی سطح میں اضافے سے ٹھٹھہ اور بدین اگلے پینتیس سال میں جبکہ کراچی سمیت سندھ کے دیگر ساحلی علاقے آئندہ پینتالیس برس تک ڈوب جائیں گے۔

آف اوشین وگرافی کا کہنا تھا کہ 1989 میں اقوام متحدہ نے پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کیا تھا، سمندر کے آگے بڑھنے سے متاثر ہوسکتے ہیں،  گزشتہ 35 سال میں بلوچستان کی ساحلی پٹی کا دو کلومیٹر کا علاقہ سمندر کے پانی کی نذر ہوچکا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں