The news is by your side.

گلشن اقبال کے کوچنگ سینٹر میں طالب علم کا قتل، پولیس ملزمان کو گرفتار کرنے میں‌ ناکام

لواحقین کو یقین دہانی کروائی ہے دو روز میں ملزمان کو پکڑ کر دکھائینگے، ایس ایس پی ایسٹ

کراچی کے علاقے گلشن اقبال کے کوچنگ سینٹر میں طالب علم احسان علی کے قتل کے واقعے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق گزشتہ روز کراچی کے علاقے گلشن اقبال 13 ڈی کے قریب کوچنگ سینٹر میں جھگڑے کے دوران ملزمان نے فائرنگ کرکے نویں جماعت کے طالب علم احسان علی کی جان لے لی تھی، واقعے کا مقدمہ مقتول طالب علم کے والد اطہر علی کی مدعیت میں درج کیا گیا۔

ایس ایس پی ایسٹ عبدالرحیم شیرازی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں ملزم جب کوچنگ سینٹر پہنچے تو ٹیچر سے پوچھا احسان کون ہے؟ ٹیچر نے اشارہ کیا جس پر ملزم طحہٰ نے فائرنگ کی، جھگڑے کی وجوہات تاحال سامنے نہیں آسکی ہیں لیکن لواحقین کو یقین دہانی کروائی ہے کہ دو روز میں ملزمان کو پکڑ کر دکھائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ جھگڑے کی وجوہات جاننے کے لیے بھی پولیس تحقیقات کررہی ہے، دو گروپ کی نشاندہی ہوئی ہے جنہوں نے اسلحے سے واردات کی۔

یہ پڑھیں: کراچی : گلشن اقبال کے کوچنگ سینٹر میں طالبعلم کے قتل کا مقدمہ درج

ایس ایس پی ایسٹ کے مطابق قتل میں لقمان اور طلحہٰ براہ راست ملوث ہیں جن کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔ جس شخص نے نوجوانوں کو اسلحہ فراہم کیا ان کی نشاندہی کرلی گئی ہے، اس کے گھر سے کچھ لوگ حراست میں بھی لیے ہیں۔

عبدالرحیم شیرازی کا کہنا ہے کہ ’مرکزی ملزم کو آج کی تاریخ میں انشا اللہ گرفتار کرلیں گے گلشن ڈویژن کی ٹیمیں اس وقت بھی ریڈ پر ہیں۔‘

مزید پڑھیں: کراچی: کوچنگ سینٹر میں طالب علم کی فائرنگ، ساتھی جاں بحق

علاوہ ازیں ایس ایس پی کا کہنا تھا کہ دو روز قبل خاتون کے قتل کیس میں بھی اہم پیش رفت ہوئی ہے 5 جنوری کو خاتون ثنا کو قتل کیا گیا تھا کیس سے متعلق جلد اچھی خبر دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ 15 دسمبر کو بلال کے قتل میں ملوث ایک ملزم کو 16 تاریخ کو ہی پکڑا گیا تھا اس کیس کا دوسرا مرکزی ملزم مارا گیا ہے۔

واضح رہے کہ طالب علم کے بہیمانہ قتل کے خلاف ورثا نے مقتول کی لاش رکھ کر پریس کلب پر احتجاج کیا اور ملزمان کو  گرفتار کرکے انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں