ہوٹل آتشزدگی: زیادہ ہلاکتیں دھویں سے ہوئیں، ابتدائی رپورٹ تیار -
The news is by your side.

Advertisement

ہوٹل آتشزدگی: زیادہ ہلاکتیں دھویں سے ہوئیں، ابتدائی رپورٹ تیار

کراچی: ہوٹل آتشزدگی واقعے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ تیار کرلی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ ہوٹل میں آگ بجھانے کا سامان تو موجود تھا تاہم دھواں نکالنے کا مناسب انتظام نہیں تھا۔


ہوٹل آتشزدگی: جاں بحق افراد کی تعداد 13 ہوگئی


رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہوٹل کے کچن میں آگ حادثاتی طور پر لگی، ہوٹل میں تین مقام پر ایمرجنسی گیٹ موجود تھے لیکن لوگ افراتفری میں ہنگامی دروازے استعمال نہیں کرسکے صرف چند لوگ ان دروازوں سے باہر نکل سکے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ آگ بجھانے کے آلات موجود تھے لیکن دھوں ختم کرنے والے آلات نہیں تھے، زیادہ تر اموات دھواں بھرنے کے باعث دم گھٹنے کے سبب ہوئیں، آگ لگنے کے وقت ہوٹل میں 100 سے زائد ملازمین موجود تھے۔

ہوٹل انتظامیہ کے مطابق فائر الارم ٹھیک طور پر کام کررہے تھے لیکن عینی شاہدین نے بتایا کہ انہوں نے کسی الارم کی آواز نہیں سنی۔

پولیس نے 16 افراد کے بیانات قلمبند کرلیے۔ تحقیقات میں گراؤنڈ فلور پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج سے بھی مدد لی جارہی ہے۔

ہوٹل انتظامیہ اور فائر بریگیڈ کی ایک دوسرے پر الزام تراشی

دوسری جانب ہوٹل میں خوفناک آگ کےبعد الزام تراشی کے شعلے بھی بھڑک اٹھے،ہوٹل انتظامیہ نے فائر بریگیڈ کی نااہلی اور سرکاری اہلکاروں نے ہوٹل میں ناقص انتظامات کو نقصان کی وجہ قرار دیا۔


یہ پڑھیں:میرا دم گھٹ رہا ہے، جاں‌ بحق ڈاکٹر رحیم کا اے آروائی کو آخری فون


آگ بجھنے کے بعد ہوٹل کے سیکیورٹی افسر نے میڈیا کو کھنڈر بن جانے والا ہوٹل دکھایا، وہ جگہ بھی دکھائی جہاں آگ بھڑکی تھی۔

سیکیورٹی افسر کا کہنا تھا کہ جان پر کھیل کر لوگوں کو بچایا، غلطی فائر بریگیڈ کی ہے وہ جلدی پہنچ جاتے تو اتنا بڑا حادثہ نہ ہوتا۔

اے آر وائی نیوز کے نمائندہ افضل پرویزکے مطابق ہوٹل کو بند کردیا گیا ہے اور تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں