پیر, مئی 20, 2024
اشتہار

کراچی کے 16 صحافیوں کی ٹیم گھوٹکی میں کچے کا دورہ کرنے نکل گئی، ڈاکوؤں سے مقابلے کے لیے خفیہ فورس تیار

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی: سندھ میں کچے کے علاقے میں پولیس کا آپریشن جاری ہے، کراچی سے 16 رکنی صحافیوں کی ٹیم سکھر سے گھوٹکی پہنچ گئی، جہاں ایس ایس پی گھوٹکی تنویر تنیو نے انھیں بریفنگ دی۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق کراچی سے جانے والے 16 صحافیوں کی ٹیم گھوٹکی میں کچے کا دورہ کرنے نکل گئی، ایس ایس پی گھوٹکی تنویر تنیو نے کچے کے علاقے میں روانگی سے قبل بریفنگ میں بتایا کہ یہاں ڈاکوؤں کے 6 بڑے گینگ آپریٹ کر رہے ہیں، جن سے مقابلے کے لیے خفیہ فورس تیار کی گئی ہے۔

انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ گینگز میں ڈاکو راہب شر، جانو اندھر، سومار شر، رانو شر، چاندی شر اور پرویز جاگیرانی کے ڈکیت گینگ شامل ہیں، کچے کے ڈاکو B10 اینٹی ٹینک گن، آر پی جی 7 اور 12.7 اینٹی ایئر کرافٹ گنوں کا استعمال کرتے ہیں، ڈاکوؤں کو منشیات کی سہولت بھی میسر ہے۔

- Advertisement -

ایس ایس پی نے بتایا ’’خفیہ فورس کسی بھی موقع پر سب کے سامنے موجود نہیں ہوگی، فورس کے بارے میں صرف آئی جی سندھ یا مجھے پتا ہوگا، کچھ برسوں میں ڈاکوؤں نے بنکرز بنا لیے ہیں، پولیس کو اس وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘‘

 

انھوں نے کہا ’’گھوٹکی کا کچا 64 کلو میٹر رقبے پر محیط ہے، جب کہ ایک ہزار پولیس اہل کار وہاں تعینات کیے گئے ہیں، ڈاکوؤں سے مقابلے کے لیے اسنائپرز تیار کیے جا رہے ہیں، ماضی میں پولیس کی جانب سے ڈاکوؤں کو اطلاعات مل جاتی تھیں، ایسے پولیس اہلکاروں کو برطرف یا دیگر سنگین سزائیں دی گئی ہیں۔‘‘

ایس ایس پی تنویر تنیو کے مطابق 8 ماہ کے دوران 5 ہزار 400 ایکڑ کا علاقہ کلیئر کرایا گیا ہے، اور 65 مغویوں کو بازیاب کرتے ہوئے 37 ڈاکوؤں کو جہنم واصل کیا گیا ہے، 11 ڈاکو زخمی، 85 سہولیت کار اور 100 جرائم پیشہ عناصر کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ایس ایس پی گھوٹکی نے بتایا کہ آج ہی 2 مغویوں کو بازیاب کرایا گیا ہے، جن میں ایک ڈاکٹر بھی شامل تھا، لوگ مختلف لالچ کا شکار ہو کر ٹریپ ہو جاتے ہیں۔

تنویر تنیو نے بتایا ’’گھوٹکی سے لے کر پنجاب تک 60 چیک پوسٹیں تیار کی گئی ہیں، سندھ پولیس کی 3 چیک پوسٹیں پنجاب کی حدود میں ہیں، کچے کے اندرونی علاقوں میں 100 اہلکاروں پر مشتمل 3 پولیس پوسٹیں تیار کی گئی ہیں، یہ پوسٹیں رونتی، بیلو، میرپور اور اندل سندھرانی میں ہیں۔‘‘

انھوں نے کہا ’’پولیس کو کئی مقامات پر زمینی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، گھوٹکی پولیس نے 2016 میں پاکستان آرمی اور رینجرز کی مدد سے آپریشن شروع کیا تھا، اور فضائی نگرانی میں کچے میں پولیس پوسٹیں تعمیر کی گئیں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ہیلی کاپٹر پر فضا سے جائزہ لیا جاتا تھا۔‘‘

Comments

اہم ترین

نذیر شاہ
نذیر شاہ
نذیر شاہ کراچی میں اے آر وائی نیوز کے کرائم رپورٹر ہیں

مزید خبریں