The news is by your side.

Advertisement

‘کراچی پیکج پر اتفاق ہو چکا، فنڈز کا میکنزم بنا لیا’

اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسدعمر نے کہا ہے کہ کراچی پیکج سےمتعلق ہمارا تقریباً اتفاق رائے ہو چکاہے اور فنڈزسےمتعلق بھی مشاورت مکمل کرلی گئی ہے۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام ‘پاورپلے’ میں گفتگو کرتے ہوئے اسدعمر نے کہا کہ کراچی میں عرصےسےمنصوبوں کی بازگشت چلی آرہی ہے، ایسامیکنزم نہیں تھاکہ منصوبوں پرکام ہولیکن اب ایسانہیں ہوگا میکنزم بنالیاگیا ہےتاکہ وفاق اورصوبائی حکومت مل کرکام کرے۔

انہوں نے کہا کہ فنڈزسےمتعلق بھی مشاورت مکمل کرلی گئی ہے،کراچی میں فیصلہ سازی کےاختیارمیں تفریق ہے،کراچی میں گراؤنڈپرصوبائی حکومت ہےاورکنٹونمنٹ بورڈزبھی ہےکراچی میں وفاقی ادارےبھی آتےہیں جن کےپاس اختیارات ہیں یہ تمام لوگ مل کرکام نہیں کریں گےتومشکلات برقراررہیں گی۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ کراچی میں پانی کےقدرتی راستےبحال کرنےکیلئےاقدامات کریں گے،کچرےکو ٹھکانے لگانے کا منصوبہ بھی بنایا جائےگا، ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سےسطح سمندر دنیا بھرمیں بڑھ رہی ہے۔

اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسدعمر کا کہنا تھا کہ اپوزیشن سےکوئی خطرہ نہیں یہ گزشتہ سال بھی کوشش کرچکےہیں، اپوزیشن کابنیادی مسئلہ حل نہیں کررہےاس لیےان کومسئلہ ہےیہ لوگ چاہتے ہیں کسی طرح نیب قوانین تبدیل کردیں، حکومت اپوزیشن کوچوری کاپیسہ ان کےپاس رکھنےنہیں دےرہی۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ایف اےٹی ایف بل پرتوکبھی کسی اورچیزپربلیک میل کرتی ہے، اپوزیشن کی کوشش ہےکسی طرح ان کےکیسزبندکردیئےجائیں، پیپلزپارٹی کی ٹاپ اورسیکنڈقیادت تمام ہی احتساب سےپریشان ہیں، پیپلزپارٹی میں احتساب کےخلاف اتحادہےلیکن ن لیگ میں ایسانہیں،ن لیگ میں کچھ لوگ احتساب چاہتےہیں اورکچھ اس کےخلاف ہیں۔

اسدعمر کا کہنا تھا کہ ایف اےٹی ایف کی ڈیڈلائن قریب آرہی ہے،اایف اےٹی ایف بل سےمتعلق مشترکہ اجلاس میں جانا ہوگا، ایک اوربل بھی ہےجس سےمتعلق مشترکہ اجلاس میں جاناہوگا امید ہےآئندہ ہےبلزکی منظوری کیلئےپارلیمنٹ کامشترکہ اجلاس بلایاجائے گا، ایف اےٹی ایف بل قوانین قومی مفادمیں ہیں منظوری ضروری ہے، اپوزیشن نےپوزیشن واضح کرنی ہےکہ بل کی حمایت کرتےہیں یانہیں،امیدہےاپوزیشن ایف اےٹی ایف بل کی حمایت کرےگی، ہم نےتیاری کررکھی ہےمشترکہ اجلاس میں بل پاس کرالیں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں