The news is by your side.

Advertisement

کراچی کینٹ اور سٹی ریلوے اسٹیشن کی کہانی

شہرِ قائد میں‌ ریلوے کے نظام اور مسافر و مال بردار ٹرینوں کے ذریعے آمدورفت اور تجارت کے حوالے سے سٹی اور کینٹ اسٹیشن خاص اہمیت رکھتے ہیں اور تاریخ کے کئی ادوار کے گواہ بھی ہیں۔ ان دونوں ریلوے اسٹیشنوں کی قدیم عمارتیں بھی تاریخی اہمیت کی حامل ہیں۔

ملک کے بالائی حصوں سے آنے والی ٹرینوں کے لیے کینٹ اور سٹی آخری ریلوے اسٹیشن ہیں۔ یہاں ہم شہرِ قائد کے ان دونوں ریلوے اسٹیشنوں سے متعلق مختصر اور دل چسپ معلومات آپ کے لیے پیش کررہے ہیں۔

کینٹ اسٹیشن
کراچی کا یہ اہم ریلوے اسٹیشن، کراچی کینٹ اور کراچی چھاؤنی کے نام سے بھی پہچانا جاتا ہے۔ یہ صدر کے علاقے کی مشہور سڑک داؤد پوتا روڈ پر واقع ہے۔ اسے ماضی میں‌ فریئر اسٹریٹ ریلوے اسٹیشن بھی کہا جاتا تھا۔ اس ریلوے اسٹیشن کی تعمیر کا آغاز 1896ء میں ہوا تھا اور یہ کام 1898ء میں مکمل ہوا۔

ماہرینِ تعمیرات کے مطابق کینٹ اسٹیشن کی عمارت رومن اور اطالوی طرزِ تعمیر کا نمونہ ہے۔ اس کا مرکزی دروازہ رومن گوئتھک طرزِ تعمیر کا نمونہ ہے جب کہ ستونوں میں اطالوی طرزِ تعمیر کی جھلک ملتی ہے۔ اس کے پلیٹ فارموں کی تعداد 5 ہے، جب کہ ٹریک کی تعداد 8 ہے۔

کراچی کینٹ کا ریلوے اسٹیشن مسافر ٹرینوں کی آمد ورفت کے حوالے سے مصروف اسٹیشن ہے جہاں سے مختلف ٹرینیں اپنی منزل کی طرف روانہ ہوتی ہیں۔

سٹی اسٹیشن
یہ کراچی کا دوسرا بڑا ریلوے اسٹیشن ہے، جو حبیب بینک پلازہ سے ملحق اور شہر کی ایک معروف شاہ راہ آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع ہے۔ یہ پاکستان ریلویز کراچی ڈویژن کا ہیڈ آفس بھی ہے۔ سٹی اسٹیشن کو پاکستان کا قدیم ترین اسٹیشن ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ اسے ماضی میں میکلوڈ ریلوے اسٹیشن کے نام سے موسوم کیا جاتا تھا۔

یہ ریلوے اسٹیشن 1855ء میں قائم کیا گیا تھا۔ چار پلیٹ فارموں پر مشتمل آج کا سٹی اسٹیشن جدید سہولتوں سے آراستہ ہے، جہاں سے بڑی تعداد میں‌ مسافر ملک کے دوسرے شہروں کے لیے ٹرینوں کے ذریعے سفر کرتے ہیں۔ یہاں کارگو کی سہولیات بھی دست یاب ہیں اور یہاں سے دو مال گاڑیاں بھی نکلتی ہیں۔ اس ریلوے اسٹیشن کی عمارت بھی قدیم اور تاریخی حیثیت کی حامل ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں