The news is by your side.

Advertisement

کراچی بارش، کرنٹ لگنے سے مزید چار شہری جاں بحق

کراچی: شہر قائد میں ہونے والی بارشوں میں ایک بار پھر کرنٹ لگنے سے  اب تک چار شہری جاں بحق ہوگئے، صوبائی وزیر توانائی نے پیش کش کی ہے کے الیکٹرک کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے والے لواحقین کو سندھ حکومت معاونت فراہم کرے گی۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں ہونے والی مون سون بارشوں کے دوسرے روز بھی مختلف علاقوں میں کرنٹ لگنے کے واقعات پیش آئے جس میں اب تک چار شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔

سٹی کورٹ میں واقع سول اسپتال کے قریب کرنٹ لگنے سے 8 سالہ بچے سمیت دو افراد جاں بحق ہوئے، ریسکیو حکام کے مطابق بارش کے پانی میں پھیلنے والے کرنٹ سے دونوں شہری جاں بحق ہوئے، مرنے والوں کی شناخت 8 سالہ انس اور جواد کے ناموں سے ہوئی ہے۔

ریسکیو حکام کا کہنا تھا کہ بجلی کے کھمبے میں کرنٹ سے 8 سالہ بچہ جاں بحق ہوا جبکہ سول اسپتال کے قریب بارش کے پانی میں‌ پھیلنے والے کرنٹ‌ سے جوان نامی شہری زندگی کی بازی ہار گیا۔

مزید پڑھیں: کراچی: کرنٹ لگنے سے اموات، نیپرا کا نوٹس

علاوہ ازیں لانڈھی اور ماڈل کالونی میں بھی کرنٹ لگنے سے دو شہریوں کی ہلاکت ہوئی، ایک روز قبل کرنٹ لگنے کے واقعات میں دو شہری جاں بحق ہوئے تھے۔

دوسری جانب وزیرتوانائی سندھ امتیاز شیخ نے کرنٹ سے ہونے والی ہلاکتوں اور فیڈرز ٹرپ ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے کے الیکٹرک کے سربراہان سے رابطہ کیا۔

امتیاز شیخ نے بارشوں میں کرنٹ سےہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ ادارے سے رپورٹ طلب کرلی۔ وزیرتوانائی سندھ نے ہدایت کی کہ ذمہ داران کا تعین کرکے فوری رپورٹ پیش کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی بارش : پانی سڑکوں پر موجود، بجلی بھی بحال نہ ہوسکی

اُن کا کہنا تھا کہ کےالیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کا خمیازہ عوام کو بھگتناپڑ رہا ہے، کرنٹ لگنے کے حادثات میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین اگر کے الیکٹرک کے خلاف مقدمہ درج کراناچاہتے ہیں تو صوبائی حکومت انہیں مکمل معاونت فراہم کرے گی۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ماہ جولائی کے آخری دنوں میں ہونے والی بارشوں کے نتیجے میں 12 شہری کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوئے تھے جس پر نیپرا نے نوٹس لے کر کے الیکٹرک سے جواب طلب کیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں