The news is by your side.

Advertisement

جامعہ کراچی واقعے کی تفتیش میں پیش رفت کیسے ممکن ہوئی؟

کراچی: جامعہ کراچی میں 26 اپریل کو ایک وین پر خود کش حملے کے واقعے کے سلسلے میں سابق کیمپس سیکیورٹی ایڈوائزر ڈاکٹر معیز خان نے یونیورسٹی میں نصب کیمروں کی تفصیلی رپورٹ وائس چانسلر کو جمع کرا دی۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حادثے سے متعلق ہونے والی پیش رفت ان کیمروں ہی کی بدولت ممکن ہوئی ہے، یہ رپورٹ گزشتہ روز قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصرہ خاتون کوجمع کرائی گئی۔

رپورٹ کے مطابق جامعہ کراچی میں گزشتہ چند سالوں سے سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب میں بتدریج اضافہ کیا جا رہا ہے، جس کے تحت پہلے مرحلے میں تمام داخلی اور خارجی دروازوں پر کیمروں کی تنصیب کی گئی۔

جامعہ کراچی خود کُش حملہ: لاشوں کی شناخت کا عمل مکمل

جامعہ کراچی میں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی آمد و رفت کے لیے 4 دروازے مختص ہیں، جن میں سلور جوبلی گیٹ، شیخ زید اسلامک سینٹر، مسکن اور میٹروول گیٹ شامل ہیں، جب کہ ایوب گوٹھ کی طرف سے صرف ایک گیٹ ہے، جو صرف پیدل آمد و رفت کے لیے ہے، ان تمام گیٹس پر چار چار کیمرے نصب ہیں جو مکمل طور پر فعال ہیں۔

جامعہ کی مرکزی سڑکوں اور سڑکوں سے متصل شعبہ جات پر بھی جگہ جگہ کیمرے نصب ہیں، جن کے ذریعے سڑکوں کی کوریج کی جاتی ہے، مسکن گیٹ پر 4 کیمرے، اس کے ساتھ ساتھ آئی بی اے بوائز ہاسٹل، کراچی یونیورسٹی بزنس اسکول، کنفیوشس انسٹیٹیوٹ، آئی بی اے کے مرکزی دروازے پر اور گیٹ نمبر ایک پر بھی کیمرے نصب ہیں۔

فارمیسی چوک پر 4 کیمرے نصب ہیں، شعبہ ٹرانسپورٹ، ایچ ای جے، فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، مسجد ابراہیم، سردار یاسین ملک پروفیشنل ڈیولپمنٹ سینٹر، کراچی یونیورسٹی کلینک، سیکیورٹی آفس، مجید ہوٹل، گرلز ہاسٹل، آزادی چوک، یو بی ایل بینک، مائیکرو بائیولوجی، فارمیسی، ماس کمیونیکیشن اور میٹروول گیٹ پر کیمرے نصب ہیں اور حادثے والے دن یہ تمام کیمرے فعال تھے، ماسوائے فارمیسی چوک کے 4 کیمروں کے۔

جامعہ کراچی دھماکا: خصوصی ویڈیوز اور تصاویر دیکھیں

واضح رہے کہ ان تمام کیمروں کا الگ سے کوئی کنٹرول روم نہیں بلکہ ہر جگہ کا ریکارڈنگ سسٹم وہیں نصب ہے، جس کی سب سے بڑی وجہ جامعہ کا طویل رقبہ ہے، مسکن گیٹ سے شیخ زید تک 3 کلو میٹر کا طویل راستہ ہے، اگر اتنی لمبی تاروں کا سسٹم ڈالا جائے تو اس میں آئے دن خامیاں آتی رہیں گی، جس کی وجہ سے مختلف مقامات پر ریکارڈنگ کا نظام وضع کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کیمروں کے فعال نہ ہونے اور کیمروں کی عدم تنصیب کے حوالے سے مختلف ذرائع ابلاغ پر چلنے والا پروپیگنڈا خلاف حقیقت اور مبنی بر قیاس ہے، جو قابل مذمت ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں