The news is by your side.

Advertisement

کھارا در : زہریلا کھانا کھانے سے 3 بچے جاں بحق، ورثا کا کارروائی سے انکار

کراچی : کھارادر میں پراسرار انداز میں تین بچوں کے جاں بحق ہونے کی وجوہات سامنے آگئیں، بچوں نے گزشتہ رات آئس کریم اور برگر کھایا تھا، ورثا نے قانونی کارروائی کرنے سے انکار کردیا۔

تفصیلات کے مطابق پولیس نے کراچی کے علاقے کھارادر میں تین بچوں کی پراسرار ہلاکت کی تحقیقات شروع کردیں، پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والے تینوں بچے سگے بہن بھائی ہیں، بچوں میں11سالہ عائزہ،8سالہ سعد اور2سالہ صفا شامل ہیں۔

بچوں کے لواحقین نے پولیس کو ابتدائی بیان دیا ہے کہ برنس روڈ سے بچوں کو گزشتہ رات برگر کھلایا تھا، اس کے علاوہ گھر پر بھی کھانا پکایا گیا تھا۔

پولیس کا مؤقف ہے کہ بچوں کی موت کے حوالے سے لواحقین کا تفصیلی بیان ہونا باقی ہے، گھر میں کیڑے مار دوا کا اسپرے ہونے کی بھی اطلاعات ملی ہیں، بچوں کاوالد کام کے سلسلےمیں کوئٹہ گیا ہوا تھا، ورثا نے بغیر کسی قانونی کارروائی کے بچوں کی تدفین کردی اور مزید قانونی کارروائی کرنے سے بھی انکار کردیا۔

کھارادر میں زہریلا کھانا کھانے سے تین بچوں کی موت فوڈ اتھارٹی کی غفلت ہے یا کچھ اور  پولیس ہر زاویے سے تحقیقات کررہی ہے، اس حوالے سے ایس پی سٹی ڈاکٹر سمیر چنا نے میڈیا کو بتایا کہ ہلاکت کا مقدمہ درج کروانے کے لیے تاحال لواحقین نے رابطہ نہیں کیا۔

انہون نے کہاکہ اصولی طور پر ڈسٹرکٹ انتظامیہ یا سندھ فوڈ اتھارٹی کی مدعیت میں مقدمہ درج ہونا چاہیے، بچوں سمیت مکمل فیملی نے 14جون کی رات بر گر خرید کر کھائے،15جون کی صبح چھ بجے بچوں کی حالت خراب ہونا شروع ہوئی۔

بچوں کو کھارادر جنرل اسپتال منتقل کیا گیا، کھارادر جنرل اسپتال میں موجود ڈاکٹرز نے طبی معائنے کے بعد بچوں کو دوا دے کر گھر روانہ کر دیا، کچھ گھنٹوں بعد بچوں کی طبیعت دوبارہ بگڑی، بچوں کو دوبارہ کھارادر جنرل اسپتال لے جایا گیا۔

ایس پی سٹی کا مزید کہنا تھا کہ اسپتال پہنچنے پر اسپتال انتظامیہ نے دو بچوں کی موت کی تصدیق کی اور تیسرے بچے کو آکسیجن کےلیے جناح اسپتال ریفر کیا، جناح اسپتال منتقلی کے دوران تیسرا بچہ بھی دم توڑ گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں