The news is by your side.

Advertisement

ہاتھ باندھے جائیں اور منہ پر ٹیپ لگادی جائے تو حکومت کا کیا فائدہ؟ سعد رفیق

لاہور: سابق وزیر ریلوے اور مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ہاتھ باندھے جائیں اور منہ پر ٹیپ لگادی جائے تو حکومت کا کیا فائدہ؟ ہمیں عوامی خدمت کرنے کی سزا دی جارہی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پنجاب کے ضلع فیروز پور روڈ پر کارنر میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کیا، خواجہ سعد رفیق کا سیاسی مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایک ارب درختوں نے سلیمانی ٹوپی پہن رکھی ہے، پی ٹی آئی نے عوام کو بے وقوف بنایا، ماضی میں سرکاری ٹی وی پر حملہ اور وزیراعظم ہاؤس کا گیٹ توڑا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی پارلیمنٹ کی دیوار پر کپڑے لٹکائے گئے، دھرنے سے ریاست پاکستان کا سوا سال ضائع ہوا، اسلام آباد کا گھیراؤ اور سڑکیں بند کرنا کیا ایسی ہوتی ہیں سیاسی جماعتیں؟ ن لیگ کی حکومت 10 ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں لائی، ہماری حکومت ایل این جی لے کر آئی اور توانائی بحران ختم کیا۔

سابق وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ کراچی میں روزانہ ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری ہوتی تھی، آج شیر نے کراچی اور بلوچستان کی رونقیں بحال کیں، بدلے میں ہمیں بلایا گیا، بےعزتی کی گئی اور دھمکیاں دی گئیں، کہتے ہیں نوازشریف کو سزا دو کیونکہ وہ موٹرویز بناتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام کے ووٹ کے ذریعے شہبازشریف ملک کے وزیراعظم بنیں گے، لوگوں کے ووٹ کے ذریعے پاکستان محفوظ بنائیں گے، ظلم و زیادتی سے آگے بڑھ جائیں گے، کسی سے انتقام نہیں لیں گے، ٹانگیں کھینچنے اور طلبی کرنے والوں کو کیا کہیں،کل بھی میری طلبی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے لیڈر کو نکال دیا گیا مگر ہم نے دھرنا دیا نہ کسی کو گالی دی، ہم نے تو ملک کو انتشار کا شکار کرنے کی کوشش نہیں کی، نفرتوں کے بیج نہیں بونا، اس سے کھاڑدار پودے اگتے ہیں، کسی سے مقابلہ نہیں بلکہ مکالمہ کرکے راستہ نکالیں گے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں