The news is by your side.

Advertisement

دعا منگی گھر پہنچ گئی ، اہلخانہ کی تصدیق

کراچی : شہر قائد کے علاقے ڈیفنس سےاغواکی گئی دعامنگی گھرپہنچ گئی ، رہائی کیسےممکن ہوئی ابھی اس کی تفصیلات آنا باقی ہے، نامعلوم اغواکاروں نے دعا منگی کو ایک ہفتہ پہلے اغوا کیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے ڈیفنس سےاغواکی گئی دعامنگی ایک ہفتےبعد گھرپہنچ گئی، اہلخانہ کا کہنا ہے کہ دعا منگی گزشتہ رات گھرپہنچی اور خیریت سےہے جبکہ مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

ہائی پروفائل کیس میں پولیس سمیت دیگر تحقیقاتی ادارے کام کر رہے تھے تاہم دعا کو تاوان کے ذریعے رہائی ملی یا اغواکار خود چھوڑ گئے، اس کی تفیصلات آنا ابھی باقی ہے جبکہ ملزمان کی گرفتاری سے متعلق بھی ابھی پولیس کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

دعا منگی کے ماموں وسیم منگی نے اےآروائی نیوز پر تصدیق کرتے ہوئے کہا الحمدللہ دعا گھرپر خیریت سےہے، کمیونٹی سے مشاورت کےبعد دعا منگی سے متعلق فیصلہ کریں گے، معاملے پر بہت سے پہلو ایک ساتھ اکٹھے ہوگئے ہیں، دعا منگی کی واپسی میں بہت سےچیزیں شامل ہیں۔

گذشتہ روز دعا منگی کے کیس میں زخمی ہونے والے حارث نے ابتدائی بیان ریکارڈ کرایا تھا ، جس میں زخمی حارث نے سی سی ٹی وی فوٹیج میں گاڑی کو شناخت کرلیا تھا۔

مزید پڑھیں : دعا منگی اغوا کیس، زخمی حارث کا ابتدائی بیان ریکارڈ

تفتیش کاروں نے حارث سے تحریری سوال کیا کہ اغوا کاروں کی تعداد کتنی تھی جس پر حارث سے پولیس کو بتایا کہ ملزمان کی تعداد 4 سے 5 تھی۔

دوسری جانب پولیس نے اغوا میں استعمال ہونے والی گاڑی سے مماثلت رکھنے والی گاڑی شاہراہ فیصل کے قریب سے برآمد کرلی تھی جبکہ دو افراد کو حراست میں لے کر تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا تھا، پولیس کا کہنا تھا کہ گرفتار ہونے والے دونوں ملزمان طالب علم ہیں۔

دعا کے والد کا کہنا تھا کہ 10 روز پہلے دعا کا مظفر نامی لڑکے سے جھگڑا ہوا تھا، جس کے بعد دعا کو اغوا کیا گیا جبکہ پولیس کا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق واقعہ اغوا برائے تاوان نہیں بلکہ بدلہ لینے کا لگتا ہے۔

بعد ازاں  وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا تھا کہ دعا منگی کو تمام تر ٹیکنالوجی بروئے کار لاکر بازیاب کرایا جائے گا

یاد رہے 30 نومبر کو کراچی کے علاقے ڈیفینس خیابان بخاری سے نامعلوم اغواکاروں نے دعا منگی کو اغواکیا تھا، جبکہ اس کےدوست حارث کوگولی مارکرزخمی کردیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں