The news is by your side.

Advertisement

شاہ سلمان نے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دینے کی مذمت کردی

ریاض: سعودی فرمانرواں شاہ سلمان نے بیت المقدس کو اسرائیلی  دارالحکومت قرار دینے اور امریکی سفارت خانے کی منتقلی کی شدید الفاظ میں مذمت کردی۔

تفصیلات کے مطابق ظہران میں جاری عرب لیگ کے سربراہی اجلاس میں شاہ سلمان نے فلسطین سے اظہار یکجہتی کے لیے اجلاس کا نام تبدیل کرتے ہوئے اس کو بیت المقدس کے نام سے منسوب کردیا۔

سعودی فرمانرواں نے امریکا کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے اور امریکی سفارت خانے کو یروشیلم منتقل کرنے کے اقدام کی سخت الفاظ مین مذمت کرتے ہوئے مقبوضہ بیت المقدس کو فلسطین کا دارلحکومت قرار دینے کا مطالبہ کیا۔

مزید پڑھیں: یروشلم تنازع : سلامتی کونسل نے ٹرمپ کا فیصلہ مسترد کردیا

شاہ سلمان نے عرب ممالک کے معاملات میں ایران کی مداخلت کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کسی ایک ملک کی وجہ سے سارے خطے میں کشیدگی بڑھتی جارہی ہے۔

سعودی فرمانرواں نے اظہار یکجہتی کے لیے فلسطینیوں کو 200 ملین ڈالر کی خطیر رقم بطور امداد دینے کا اعلان کرتے ہوئے زور دیا کہ اسرائیل نہتے عوام پر مظالم فوری طور پر بند کرے۔

واضح رہے کہ 29ویں عرب لیگ کا باقاعدہ آغاز ہوچکا جس میں اسلامی ممالک کے سربراہان شرکت کے لیے سعودی عرب کے شہر ظہران پہنچ چکے، عرب ممالک کے اس اجلاس میں شام میں جاری خانہ جنگی پر بھی کوئی لائحہ عمل طے کیے جانے کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یروشیلم تنازع: دنیا بھر میں مظاہرے، 4 فلسطینی شہید

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ برس 6 دسمبر کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے یروشیلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارت خانے کو منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اسلامی ریاستوں سمیت تمام ہی ممالک نے ٹرمپ کے اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور متنبہ کیا کہ اگر اس طرح کا کوئی اقدام کیا گیا وہ خطے میں امن و امان کو متاثر کرتے گا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں