یورپ: مسلم اکثریتی ملک کا اپنی فوج بنانے کا اعلان، نیٹو کی تنقید -
The news is by your side.

Advertisement

یورپ: مسلم اکثریتی ملک کا اپنی فوج بنانے کا اعلان، نیٹو کی تنقید

پرسٹینا: یورپ سے علیحدگی اختیار کر نے والے ملک کوسوو نے اپنی فوج بنانے کا اعلان کردیا۔

کوسوو کی پارلیمنٹ نے 14 دسمبر کو ہونے والے اجلاس میں ملکی تاریخ کا اہم فیصلہ کرتے ہوئے سرحدوں کی نگرانی کے لیے اپنی فوج بنانے کا قانون منظور کیا جس پر جلد عملدرآمد شروع کیا جائے گا۔

پارلیمنٹ میں منظور ہونے والی قرار داد میں کہا گیا ہے کہ ملک کو چھوٹے بحرانوں سے نکالنے اور سرحدوں کی حفاظت کے لیے کوسوو سیکیورٹی فورس (کے ایس ایف) کا قیام ناگزیر ہے۔

قرار داد میں یہ بھی کہا گیا کہ پہلے سے تعینات 5 ہزار فورس کے اہلکاروں کو دفاعی فوجی اہلکاروں کا درجہ دیا جائے۔

اسپیکر اسمبلی قدری ویسلی نے قرار داد منظور ہونے کے بعد اعلان کیا کہ آج اراکین کی دلچسپی کی بدولت ہم نئے دور میں داخل ہونے جارہے ہیں، اب ہمارے پاس بھی بری فوج ہوگی اور آئندہ فضائیہ و بحری افواج کے ادارے بھی مرحلہ وار تشکیل دیےجائیں گے۔

کوسوو کے وزیراعظم اور اراکین پارلیمنٹ نے تاریخی قرارداد منظور ہونے پر ایک دوسرے کو مبارک باد پیش کی جبکہ سربیا سے تعلق رکھنے والے اراکین نے اس قانون کی کھل کر مخالفت کی۔

کوسوو کے شہریوں نے بھی نئی قانون سازی کو اپنی آزادی کا اہم ستون قرار دیتے ہوئے خوب جشن منایا اور ایک دوسرے کو مٹھائی پیش کی جبکہ صدر ہاشم ثانی نے فیصلے کو سال کا بہترین تحفہ قرار دیا۔

دوسری جانب سے سربیا نے اس فیصلے کو استحکام کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اس اقدام سے خطے میں بہت زیادہ بے چینی پھیلے گی اور کوسوو کی آزادی پر سوالات بھی اٹھیں گے‘۔

علاوہ ازیں نیٹو فوج کے سربراہ اور یورپین ممالک نے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’جلد بازی میں کیا جانے والا فیصلہ یورپی یونین کے لیے خطرناک ثابت ہوگا‘ تاہم امریکا نے اس فیصلے کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔

یاد رہے کہ طویل عرصے کی خانہ جنگی کے بعد سربیا کی مسلمان اکثریتی آبادی پر مشتمل علاقے کو ’کوسوو‘ کے نام سے آزاد ملک کا قیام عمل میں لایا گیا تھا، سربیا سمیت دنیا کے متعدد ممالک نے کوسوو کی آزادی کو تاحال تسلیم نہیں کیا۔

خانہ جنگی کے باعث کوسوو میں سن 1988 سے نیٹو فوج تعینات ہے،ملک کی آبادی 19 لاکھ سے زائد ہے جس کا اکثریتی 95 فیصد حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں