The news is by your side.

خیبرپختونخوا کا 1332 ارب کا بجٹ منظور، کم سے کم اجرت 26 ہزار مقرر

خیبرپختونخوا اسمبلی نے صوبے کے 1332 ارب روپے کے بجٹ کی منظوری دیدی، وزیراعلیٰ نے کم سے کم ماہانہ اجرت 26 ہزار کرنے کا اعلان کردیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی نے صوبے کے آئندہ مالی سال کے لیے 1332 ارب روپ کے بجٹ کی منظوری دے دی جب کہ اس موقع پر وزیراعلیٰ محمود خان نے کم سے کم ماہانہ اجرت 21 ہزار سے بڑھا کر 26 ہزار کرنے کا اعلان کیا۔

وزیراعلیٰ کے پی محمود خان نے اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انصاف فوڈ کارڈ یکم جولائی سے شروع کر رہے ہیں، اس کے علاوہ جلد ایجوکیشن کارڈ بھی شروع کر رہے ہیں جس کے تحت ایک لاکھ طلبہ کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تربیت دی جائیگی جب کہ کے پی میں بورڈ کی امتحانی فیس بھی ختم کررہے ہیں۔
وزیراعلیٰ کی تقریر کے دوران ن لیگ کے رکن اسمبلی اختیار ولی نے شورشرابا تو ڈپٹی اسپیکر نے انہیں ایوان سے نکال دیا گیا اور اسمبلی میں داخلے پر دو روز کیلیے پابندی عائد کردی۔

محمود خان نے کہا کہ پی ایس ڈی پی میں منظور شدہ کے پی کے منصوبے نکالے جا رہے ہیں، پاکستان میں کے پی کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا دیگر صوبوں کا ہے، فاٹا کے لیے بجٹ میں وفاق نے 21 بلین کا کٹ لگایا ہے جس کے خلاف ہم سب مل کر آواز اٹھائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج ملک میں امن وامان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے کیونکہ میرے لیڈر نے ایبسلوٹلی ناٹ کہا تھا لیکن نئی حکومت آنے کے بعد ملک کے حالات خرابی کی طرف جارہے ہیں، جب یہ حکومت نہیں چلا سکتے تھے تو پنگا کیوں لیا تھا؟

وزیراعلیٰ کے پی محمود خان نے مزید کہا کہ پی ڈی ایم نے حکومت اس لیے لی تھی کہ این آر او لے سکیں، یہ اس لئے آئے کہ اپنا نام ای سی ایل سے نکال سکیں، یہ ٹیکس نظام لا رہے ہیں جس میں فکس ٹیکس ہوگا اور اس میں بڑی مچھلیاں آسانی سے نکل جائیں گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں